کفار سے علیٰحدہ رہیں (۴)کسی کو نہیں معلوم کہ اس کی موت کہاں ہوگی۔اگر ہم پردیس میں مرگئے جہاں ہمارا جان پہچان والا کوئی نہ ہو تو سخت مشکل درپیش ہوگی۔لوگ پریشان ہوں گے کہ ان کو دفن کريں یا آگ میں جلادیں کیونکہ صورت سے پہچان نہ پڑے گی چنانچہ چند سال پیشتر علی گڑھ کے ایک صاحب کا ریل میں انتقال ہوگیاخبر ہونے پر رات میں میں نعش اتارلی گئی مگر اب یہ فکر ہوئی کہ یہ ہے کون ؟ہندو یا مسلمان اس کو سپردِ خا ک کریں یاآگ میں ڈالیں آخر ان کا ختنہ دیکھا گیا تب پتہ لگا کہ یہ مسلمان ہیں خلاصہ یہ ہے کہ کفار کی سی شکل اور ان کا سا لباس زندگی میں بھی خطرناک ہے اور مرنے کے بعد بھی۔ (۵)زمین میں جب بیج بویا جاتا ہے تو اولاً ایک سیدھی سی شاخ ہی نکلتی ہے پھر آکر ہر طرف پھیلتی ہے پھر اس میں پھل نکلتے ہیں اگر کوئی شخص اس کی چوطرف کی شاخوں اور پتوں کو کاٹ ڈالے تو پھل نہیں کھاسکتا۔اسی طرح کلمہ طیبہ ایک بیج ہے جو مسلمان کے دل میں بویا گیا،پھر صورت اور ہاتھ پاؤں، آنکھ،ناک کی طرف اس درخت کی شاخيں چلیں کہ اس کلمہ نے مسلمان کی آنکھ کو غیر صورتوں سے علیٰحدہ کردیا۔ہاتھ کو حرام چیز کے چھونے سے روک دیا۔صورت پر ایمانی آثار پیدا کردیئے کان کو غیبت سننے اور زبان کو جھوٹ بولنے غیبت کرنے سے روکا جو شخص دل سے مسلمان تو ہو مگرکافروں کی سی صورت بنائے اپنے ہاتھ،پاؤں، زبان، آنکھ، ناک، کان کو حرام کاموں سے نہ روکے وہ اسی شخص کی طرح ہوگا جو آم کابیج بودے اور اس کی تمام شاخيں وغيرہ کاٹ ڈالے جس طرح وہ بیوقوف پھل سے محروم رہے گا اسی طرح یہ مسلمان اسلا م کے پھلوں سے محروم رہے گا (۶)پکا رنگ وہ ہوتا ہے جو کسی پانی یا دھوبی سے نہ چھوٹے اور کچا رنگ وہ جو چھوٹ