کہ فساد کی حالت میں بعض مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے کیونکہ پہچانے نہ گئے کہ یہ مسلمان ہیں یا ہندو چنانچہ تیسرے سال جو بریلی اورپیلی بھیت میں ہندو مسلم فساد ہوا اس جگہ سے خبریں کہ بہت سے مسلمانوں کو خود مسلمانوں نے ہندو سمجھ کر فنا کردیا۔یہ اس نئے فیشن کی برکتیں ہیں میرے ولی نعمت مرشد برحق حضرت صدر الافاضل مولانا محمد نعیم الدین صاحب قبلہ دام ظلہم نے فرمایا کہ ایک دفعہ ہم ریل میں سفر کررہے تھے کہ ایک اسٹیشن سے ایک صاحب سوار ہوئے جو بظاہر ہندو معلوم ہوتے تھے گاڑی میں جگہ تنگ تھی ایک لالہ جی سے ان کا جگہ لینے کا جھگڑا ہوگیا۔ لالہ جی کے ساتھی زيادہ تھے اس لئے لالہ جی نے ان حضرت کو خوب پیٹا مسلمان مسافر بیچ بچاؤ میں زیادہ نہ پڑے کیونکہ سمجھتے تھے کہ ہندو آپس میں لڑرہے ہیں ہمارا زیادہ زور دینا خلافِ مصلحت ہے۔ بے چارے شامت کے مارے پٹ کٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے جب اگلے اسٹیشن پر اترے تو انہوں نے کہا السلام علیکم تب معلوم ہوا کہ یہ حضرت مسلمان ہیں تب ہم نے افسو س کیا اور ان سے عرض کیا کہ حضرت آپ کے فیشن نے آپ کو اس وقت پٹوایا۔''