Brailvi Books

اسلامی زندگی
87 - 158
کہ فساد کی حالت میں بعض مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے کیونکہ پہچانے نہ گئے کہ یہ مسلمان ہیں یا ہندو چنانچہ تیسرے سال جو بریلی اورپیلی بھیت میں ہندو مسلم فساد ہوا اس جگہ سے خبریں کہ بہت سے مسلمانوں کو خود مسلمانوں نے ہندو سمجھ کر فنا کردیا۔یہ اس نئے فیشن کی برکتیں ہیں میرے ولی نعمت مرشد برحق حضرت صدر الافاضل مولانا محمد نعیم الدین صاحب قبلہ دام ظلہم نے فرمایا کہ ایک دفعہ ہم ریل میں سفر کررہے تھے کہ ایک اسٹیشن سے ایک صاحب سوار ہوئے جو بظاہر ہندو معلوم ہوتے تھے گاڑی میں جگہ تنگ تھی ایک لالہ جی سے ان کا جگہ لینے کا جھگڑا ہوگیا۔ لالہ جی کے ساتھی زيادہ تھے اس لئے لالہ جی نے ان حضرت کو خوب پیٹا مسلمان مسافر بیچ بچاؤ میں زیادہ نہ پڑے کیونکہ سمجھتے تھے کہ ہندو آپس میں لڑرہے ہیں ہمارا زیادہ زور دینا خلافِ مصلحت ہے۔ بے چارے شامت کے مارے پٹ کٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے جب اگلے اسٹیشن پر اترے تو انہوں نے کہا السلام علیکم تب معلوم ہوا کہ یہ حضرت مسلمان ہیں تب ہم نے افسو س کیا اور ان سے عرض کیا کہ حضرت آپ کے فیشن نے آپ کو اس وقت پٹوایا۔''
    میں جب کبھی بازار وغيرہ جاتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ سلام کسے کروں معلوم نہیں کہ ہندوکون ہے اور مسلمان کون؟ بہت دفعہ کسی کو کہا اسلام علیکم انہوں نے فرمایا بندگی صاحب ہم شرمندہ ہوگئے۔ میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے مسلمان کی دکان سے چیز خریدوں مگر دوکاندار کی شکل ایسی ہوتی ہے کہ پہچان نہیں ہوتی کہ یہ کون ہیں اگر دوکان پر کوئی بورڈ لگا ہے جس کے نام سے معلوم ہوگیا کہ یہ مسلمان کی دوکان ہے تو خیر ورنہ بہت دشواری ہوتی ہے غرضیکہ مسلمانوں کو چاہے کہ شکل اور لباس میں
Flag Counter