| اسلامی زندگی |
رکھا ہے کہ ہر ایک کا دوسرے پر اثر پڑتا ہے اگر آپ کا دل غمگین ہے تو چہرہ پر اداسی چھا جاتی ہے اور دیکھنے والا کہہ دیتا ہے کہ خیر تو ہے چہرہ کیوں اداس ہے دل میں خوشی ہے تو چہرہ بھی سرخ و سپید ہوجاتا ہے معلوم ہوا کہ دل کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے اسی طرح اگر کسی کو دق(یعنی ٹی.بی) کی بیماری ہے تو حکیم کہتے ہیں کہ اس کو اچھی ہوا میں رکھو اچھے اور صاف کپڑے پہناؤ اس کو فلاں دوا کے پانی سے غسل دو کہے بیماری تو دل میں ہے یہ ظاہری جسم کا علاج کیوں ہورہا ہے اسی لئے کہ اگر ظاہر اچھا ہوگا تو اندر بھی اچھا ہوجائے گا۔
تندرست آدمی کو چاہے کہ روزانہ غسل کرے صاف کپڑے پہنے صاف گھر میں رہے تو تندرست رہے گا۔اسی طرح غذا کا اثر بھی دل پر پڑتا ہے۔ سؤر کھانا شریعت نے اسی لے حرام فرمادیا کہ اس سے بے غیرتی پیدا ہوتی ہے کیونکہ سؤر بے غیرت جانور ہے اور سؤر کھانے والی قومیں بھی بے غیرت ہوتی ہیں جس کا تجربہ ہورہا ہے اگر چیتے یا شیر کی چربی کھائی جائے تو دل میں سختی اور بربریت پیدا ہوتی ہے چیتے اور شیر کی کھال پر بیٹھنا اسی لئے منع ہے کہ اس سے غرورپیدا ہوتا ہے، غرضیکہ ماننا پڑے گا کہ غذا اور لباس کا اثر دل پر ہوتا ہے تو اگر کافروں کی طرح لباس پہناگیا یا کفار کی سی صورت بنائی گئی تو یقینا دل میں کافروں سے محبت اور مسلمانوں سے نفرت پیدا ہوجاوے گی غرضیکہ یہ بیماری آخر میں مہلک ثابت ہوگی اس لئے حدیث پاک میں آیا ہے
''مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ''
جو کسی دوسری قول سے مشابہت پیدا کرے وہ ان میں سے ہے۔
(المعجم الاوسط، الحدیث ۸۳۲۷، ج ۲، ص ۱۵۱)
خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کی سی صورت بناؤ تاکہ مسلمانوں ہی کی طرح سیرت پیدا ہو۔(۳)ہندوستان میں اکثر ہندو مسلم فساد ہوتا رہتا ہے اور بہت جگہ سننے میں آیا