Brailvi Books

اسلامی زندگی
85 - 158
گھر جاکر قینچی سے کاٹ دوں گا۔مگر سرکا ری فرمان ہوا کہ ہماری مسواک لو۔اس پر بڑھے ہوئے بال رکھ کر چھری سے کاٹ دو۔ یعنی اتنی بھی مہلت نہ دی کہ گھر جاکر قینچی سے کاٹیں، نہیں یہاں ہی کاٹ دو جس سے معلوم ہوا کہ بڑی مونچھیں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو ناپسند تھیں دنیا میں ہزاروں پیغمبر تشریف لائے مگر کسی نبی نے نہ داڑھی منڈائی اور نہ مونچھیں رکھائیں،لہٰذا داڑھی فطرت یعنی سنتِ انبیاء علیہم السلام ہے حدیث پاک میں ہے داڑھیاں بڑھاؤاور مونچھیں پست کرو اور مشرکین کی مخالفت کرو۔
(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث ۲۵۹، ص ۱۵۴)
    اس کے علاوہ بہت سے نقلی دلیلیں دی جاسکتی ہیں۔مگر ہمارے نئے تعلیم یافتہ لوگ نقلی دلائل کے مقابلے عقلی باتوں کو زیادہ مانتے ہیں گویا گلاب کے پھول کے مقابلے میں گینڈے کے پھول ان کو زيادہ پیارے ہیں اس لئے عقلی باتیں بھی عرض کرتا ہوں سنو!اسلامی شکل اور اسلامی لباس میں اتنے فائدے ہیں (۱)گورنمنٹ نے ہزاروں محکمے بنادیئے ہیں، ریلوے،ڈاکخانہ،پولیس،فوج اور کچہری وغيرہ اور ہر محکمے کیلئے وردی علیٰحدہ علیٰحدہ مقرر کردی کہ اگر لاکھوں آدمیوں میں کسی محکمہ کا آدمی کھڑا ہو تو صاف پہچان میں آجاتا ہے، اگر کوئی سرکاری نوکر اپنی ڈیوٹی کے وقت اپنی وردی میں نہ ہو تو اس پر جرمانہ ہوتا ہے اگر بار بار کہنے پر نہ مانے تو برخاست کردیا جاتا ہے اسی طرح ہم بھی محکمہ اسلام اور سلطنت مصطفوی اور حکومت الٰہیہ کے نوکر ہیں ہمارے لئے علیٰحدہ شکل مقرر کردی کہ اگر لاکھوں کافروں کے بیچ میں کھڑے ہوں تو پہچان لئے جائیں کہ مصطفےٰ علیہ السلام کا غلام وہ کھڑا ہے اگر ہم نے اپنی وردی چھوڑ دی تو ہم بھی سزا کے مستحق ہوں گے۔ (۲)قدرت نے انسان کی ظاہری صورت اور دل میں ایسا رشتہ
Flag Counter