Brailvi Books

اسلامی زندگی
76 - 158
رہے کہ جوان عورتوں کا اس طرح نعتیں پڑھنا کہ ان کی آواز غیر مردوں کو پہنچے حرام ہے کیونکہ عورت کی آواز کا غیر مردوں سے پردہ ہے اسی طرح ربیع الاول میں جلوس نکالنا بہت مبارک کام ہے جب حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم، مدینہ منورہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے تو مدینہ پاک کے جوان وبچے وہاں کے بازاروں کوچوں اور گلیوں میں یا رسول اللہ! کے نعرے لگاتے پھرتے تھے اور جلوس نکالے گئے تھے۔
 (صحیح مسلم ،کتاب الزہد والرقائق،با ب فی حدیث الھجرۃ ...الخ، الحدیث ۹ ۲۰۰،ص۱۶۰۸ملخصاً )
    اور اس جلوس کے ذریعہ سے وہ کفار اور دوسری قومیں بھی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے مبارک حالات سن لیں گے۔جو اسلامی جلسوں میں نہیں آتے ان کے دلوں میں اسلام کی ہیبت اور بانئ اسلام علیہ السلام کی عزت پیدا ہوگی۔مگر جلوس کے آگے باجہ وغیرہ کا ہونا یا ساتھ عورتوں کا جانا حرام ہے۔
رجب شریف:
    اس مہینہ کی ۲۲ تاریخ  کو ہندوپاک میں کونڈے ہوتے ہیں یعنی نئے کونڈے منگائے جاتے ہیں اور سو ا پاؤ میدہ، سوا پاؤشکر، سوا پاؤگھی کی پوریاں بناکر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کرتے ہيں، اس رسم میں صرف دو خرابیاں پیدا کردی گئی ہیں ایک تو یہ کہ فاتحہ دلانے والوں کا عقیدہ یہ ہوگیا ہے اگر فاتحہ کے اول لکڑہارے کا قصہ نہ پڑھا جائے تو فاتحہ نہ ہوگی اور پوریاں گھر سے باہر نہیں جاسکتیں اور بغیر نئے کونڈے کے یہ فاتحہ نہیں ہوسکتی یہ سارے خیال غلط ہیں فاتحہ ہر کونڈے پر اور ہر برتن میں ہوجائے گی۔اگر صرف زیادہ صفائی کے لئے نئے کونڈے منگالیں تو حرج نہیں دوسری فاتحہ کے کھانوں کی طرح اس کو بھی باہر بھیجا جاسکتا ہے
Flag Counter