Brailvi Books

اسلامی زندگی
75 - 158
میں شہادت کے سچے واقعات بیان ہوں۔آخری چہار شنبہ ماہ صفر کے متعلق جو روایت مشہور ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس تاریخ غسلِ صحت فرمایا،وہ محض غلط ہے ۲۷ صفر کو مرض شریف یعنی درد سر اور بخار شروع ہوا اور بارہویں ربیع الاول دو شنبہ کے دن وفات ہوگئی۔ درمیان میں صحت نہ ہوئی، فاتحہ اور قرآن خوانی جب بھی کرو حرج نہیں مگر گھڑے، برتن پھوڑنا مال کو برباد کرنا ہے جو حرام ہے۔ ربیع الاول میں محفلِ میلاد شریف اور ربیع الثانی میں مجلس گیارہویں شریف بہت مجلسیں ہیں ان کو بند کرنا بہت نادانی ہے تفسیر روح البیان میں ہے کہ محفلِ میلادشریف کی برکت سال بھر تک گھر میں رہتی ہے۔
 (روح البیان ،پ۲۶،تحت ۲۹،ج۹ ،ص۵۷)
    اس کیلئے ہماری کتاب جا ء الحق دیکھو۔ ان مجلسوں کی و جہ سے مسلمانوں کو نصیحت کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور مسلمانوں میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت پیدا ہوتی ہے جوایمان کی جڑ ہے بخاری شریف میں ہے کہ ابولہب نے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پیدا ہونے کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھااس کے مرنے کے بعد اس کو کسی نے خواب میں دیکھا پوچھا تیرا حال کیا ہے اس نے کہا حال تو بہت خراب ہے مگر سومورا(پیر)کے دن عذاب میں کمی ہوجاتی ہے کیونکہ میں نے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پیدا ہونے کی خوشی کی تھی۔
 (صحیح البخاری ،کتاب النکاح،باب وامھاتکم ...الخ،الحدیث ۵۱۰۱،ج۳،ص۴۳۲،وعمدۃ القاری ،کتاب النکاح ،باب وامھاتکم ...الخ،الحدیث۵۱۰۱،ج۱۴،ص۴۵)
    جب کافر ابولہب کو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پیدائش کی خوشی کا کچھ نہ کچھ فائدہ مل گیا تو مسلمان اگر ان کی خوشی منائے تو ضرور ثواب پائے گا۔لیکن یہ خیال
Flag Counter