Brailvi Books

اسلامی زندگی
77 - 158
  رجبی شریف بھی حقیقت میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی معراج کی خوشی ہے اس میں کوئی حرج نہیں مگر اس میں بھی جو ان عورتوں کو نعتیں بلند آواز سے پڑھنا کہ جس سے باہَر آواز پہنچے حرام ہے۔
شبِ براء ت:
    شبِ براء ت کی رات بہت مبارک ہے رات میں سال بھر میں ہونے والے سارے انتظامات فرشتوں کے سپردکردیئے جاتے ہیں کہ اس سال میں فلاں فلاں کی موت ہے، فلاں فلاں جگہ اتنا پانی برسایا جاوے گا،فلاں کو مالدار اور فلاں کو غریب بنایا جائے گا،اور جو اس رات میں عبادت کرتے ہیں ان کو عذاب الٰہی سے چھٹکار ا یعنی رہائی ملتی ہے۔ اسلئے اس رات کا نام شبِ براء ت عربی میں براء ت کے معنی رہائی اور چھٹکارا ہیں۔ یعنی یہ رات رہائی کی رات ہے قران کریم فرماتا ہے
فِیۡہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴﴾
 (پ۲۵،الدخان، ۴)
ترجمہ کنزالایمان:اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہرحکمت والاکام۔
     اس رات کو زمزم کے کنوئیں میں پانی بڑھایا جاتا ہے اس رات حق تعالیٰ کی رحمتیں بہت زیادہ اترتی ہیں۔
 (تفسیرِ روح البیان ،پ ۲۵،تحت ۴،ج۸ ص ۴۰۴)
  اس رات کو گناہ میں گزارنا بڑی محرومی کی بات ہے آتشبازی کے متعلق مشہور یہ ہے کہ یہ نمرودبادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تواس کے آدمیوں نے آگ کے اناربھرکران میں آگ لگا کر حضرت خلیل اللہ علیٰ نبیناوعلیہ الصلاۃوالسلام کی طرف پھینکے۔ کاٹھیا واڑ میں ہندو
Flag Counter