| اسلامی زندگی |
شوہر کی رضا میں اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی رضا مندی ہے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔
( سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب حق الزوج علی المراۃ، الحدیث ۱۸۵۳، ج ۲، ص ۴۱۱) (وسنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المراۃ، الحدیث ۲۱۴۰، ج۲، س ۳۵۵)
اور اے شوہرو!تم یاد رکھو کہ دنیا میں انسان کے چارباپ ہوتے ہیں ایک تونسبتی باپ،دوسرے اپنا سسر تیسرے اپنا استاد،چوتھے اپنا پیر۔ اگر تم نے اپنے سسر کو براکہا تو سمجھ لو کہ اپنے باپ کو برا کہا،حضور علیہ السلام نے فرمایاہے،'' بہت کامیاب شخص وہ ہے جس کی بیوی بچے اس سے راضی ہوں۔''
خیال رکھو کہ تمہاری بیوی نے صرف تمہاری وجہ سے اپنے سارے میکے کو چھوڑا۔بلکہ بعض صورتوں میں دیس چھوڑ کر تمہارے ساتھ پردیسی بنی اگر تم بھی اس کو آنکھیں دکھاؤ تو وہ کس کی ہوکر رہے تمہارے ذمہ ماں باپ، بھائی بہن، بیوی بچے سب کے حق ہیں کسی کے حق میں کسی کے حق کے ادا کرنے میں غفلت نہ کرو اور کوشش کرو کہ دنیا سے بندوں کے حق کا بوجھ اپنے پر نہ لے جاؤ،خدا کے تو ہم سب گنہگار ہیں مگر مخلوق کے گنہگار نہ بنیں،حق تعالیٰ میرے ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں تاثیر دے اور مسلمانوں کے گھروں میں اتفاق پیدا فرمادے،اور جو کوئی اس رسالے سے فائدہ اٹھائے وہ مجھ فقیر کیلئے دعائے مغفرت اور حُسنِ خاتمہ کرے۔
دوباتیں اور بھی یاد رکھو! ایک تو یہ کہ جیسا تم اپنے ماں باپ سے سلوک کروگے ویسا ہی تمہاری اولاد تمہارے ساتھ سلوک کرے گی،جیسا کہ تم دوسرے کی