یہ کیوں تھا صرف اسلئے کہ ہرشخص کی فطری عادت ہے کہ اپنے ماں باپ کی برائی نہ سن سکے،اگر لڑکی کو کسی کام کاج میں مہارت نہ ہو تو آہستگی سے سکھالیں غرضیکہ اس کے ساتھ وہ سلوک کریں جو اپنی اولاد سے کرتے ہیں یا اپنی بیٹی کیلئے ہم خود چاہتے ہیں وہ بھی تو کسی کی بچی ہے جو چیز اپنی بچی کیلئے گوارانہ کرو وہ دوسرے کی بچی سے بھی گوارانہ کرو اور کسی پر بلاوجہ بدگمانی کرنا حرام ہے۔ اس بدگمانی نے صدہا گھروں کو تباہ کرڈالا، دلہنوں کو چاہے کہ اس کا خیال رکھیں کہ زبان شیریں سے ملک گیری ہوتی ہے۔نرم زبان سے انسان جانوروں کو قبضے میں کرلیتا ہے یہ ساس، نندیں تو پھر انسان ہیں خیا ل رکھو کہ قدرت نے پکڑنے کیلئے دوہاتھ، چلنے کیلئے دوپاؤں، دیکھنے کیلئے دوآنکھیں اور سننے کیلئے دوکان دیئے ہیں مگر بولنے کیلئے زبان صرف ایک ہی دی جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ بولو کم مگر کام زيادہ کرو،اگر تم اپنے ماں باپ کی بڑائی سب کو جتلاتی پھر و تو بیکار ہے لطف تو جب ہے کہ تمہاری رفتار گفتار خوش خلقی کام دھندا اچھے اخلاق ایسے ہوں کہ ساس نند اور شوہر یا کہ ہر دیکھنے والا تم کو دیکھ کر تمہارے ماں باپ کی تعریف کریں کہ دیکھو تو لڑکی کو کیسی عمدہ تعلیم تربیت دی سسرال میں کیسی ہی لڑائی ہوجائے ماں باپ کو ہرگز اس کی خبر نہ کرو،اگر کوئی بات تمہاری مرضی کے خلاف بھی ہوجائے تو صبر سے کام لو کچھ دنوں میں یہ ساس سسر نندیں اور شوہر سب تمہاری مرضی پر چلیں گے۔ہم نے وہ لائق شریف لڑکیاں بھی دیکھی ہیں جنہوں نے سسرال میں پہلے کچھ دشواری اٹھائی پھر اپنے اپنے اخلاق سے سسرال والوں کو ایسا گرویدہ بنالیا کہ انہوں نے سارے کے سارے اختیاردلہن کو دے دیئے اور کہنے لگے کہ بیٹی گھر بار تو جانے، ہم کو تودووقت جو تیرا جی چاہے پکا کر دے دیا کرواور خیال رہے کہ تمہارے