| اسلامی زندگی |
ساس نند یں دلہن کے ماں باپ کو اس کی موجودگی میں بُر ابھلا کہتی ہیں، جس کو وہ برادشت نہيں کرسکتی، کبھی میکے بھیجنے پر جھگڑاہوتاہے کہ دلہن کہتی ہے کہ میں میکے جاؤں گی سسرال والے نہیں بھیجتے پھر دلہن اپنی تکلیفيں اپنے میکے والوں سے جاکر کہتی ہے تو وہ اس کی طرف سے لڑائی کرتے ہیں یہ ایسی آگ لگتی ہے بجھائے نہیں بجھتی کبھی ساس نندیں بلاوجہ دلہن پر بدگمانی کرتی ہیں کہ ہماری دلہن چیزوں کی چوری کرکے میکے پہنچاتی ہے۔
یہ وہ شکایات ہیں جنکی وجہ سے ہمارے یہاں خانہ جنگیاں رہتی ہیں اور ان شکایات کی جڑ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق سے بے خبر ہیں۔دلہن کو نہیں معلوم کہ مجھ پر شوہر اور ساس کے کیا حق ہیں اور ساس اور شوہر کو نہیں خبر کہ ہم پر دلہن کے کیا حق ہیں؟ساسوں اور شوہروں کو یہ خيال چاہے کہ نئی دلہن ایک قسم کی چڑیا ہے جو ابھی ابھی قفس(پنجرے)میں پھنسی ہے تو پھڑپھڑاتی بھی ہے اور بھاگنے کی بھی کوشش کرتی ہے مگر شکاری اور پالنے والا اس کو کھانے پانی کا لالچ دے کر پیارکرکے بہلاتا اور اس کے دل لگانے کی کوشش کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ اُس کا دل لگ جاتا ہے اسی طرح ساس، نندوں اور شوہروں کو چاہے کہ اس کے ساتھ ایسا اچھا برتاوا کریں کہ وہ جلد ان سے مل جل جائے۔ دوستو،چار دن توقیر کے بھی بھاری ہوتے ہیں اور خیال رکھو کہ لڑکی سب کچھ سن سکتی ہے مگر اپنے ماں باپ بہن بھائی کی برائی نہیں سن سکتی، اسکے سامنے اس کے ماں باپ کو ہرگز برُا نہ کہو،دیکھو ابوجہل کا فرزند عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب ایمان لائے تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کوحکم دیا کہ عکرمہ کے سامنے کوئی بھی ان کے باپ ابوجہل کو برا نہ کہے۔
(مدارج النبوت، قسم سوم باب، ہفتم، ذکر عکرمہ بن ابی جہل، ج ۲، ص ۲۹۸)