| اسلامی زندگی |
ایک عد د، تکیہ ایک عد د، چا در ایک عدد، دلہن کو جوڑے چا ر عدد، جس میں دو عدد سوتی ہوں اور دو ریشمی۔ دولہا کو جوڑے دو عدد، دولہا کے والد کو جوڑا ایک عدد، دولہا کی ماں کو جوڑا ایک عدد، مصلی (جائے نماز) ایک عدد، قرآن شریف مع رحل ایک عدد، زیور بقدرہمت مگر اس میں بھی زیادتی نہ کرو۔ اگر ہو سکے تو اس کے علاوہ نقد روپیہ لڑکی کے نام میں جمع کر ادو اور اگر تم کو اللہ عزوجل! نے دیا ہے تو لڑکی کو کوئی مکان، دوکان، جائیداد کی شکل میں خرید دو لڑکی کے نام رجسٹری ہو۔ یہ بھی یا د رکھو کہ تمام لڑکیوں میں برابری ہونا ضروری ہے لہذا اگر نقدی روپیہ یا جائیداد ایک کودی ہے تو سب کو دو ورنہ گنہگار ہو گئے۔ جو اولاد میں برابر ی نہ رکھے حدیث شریف میں اس کو ظالم کہا گیا ہے۔
(صحیح مسلم،کتاب الھبۃ ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد فی الھبۃ،الحدیث۲۲۱۶،ج۴،ص۸۹۸)
اور اپنی لڑکیوں کو سکھا دو کہ اگر ان کی ساس یانند طعنہ دیں تو وہ جواب دیں کہ میں سنت طریقہ اور حضرت خاتون جنت کی غلامی میں تمہارے گھر آئی ہوں۔ اگر تم نے مجھ پر طعنہ کیا تو تمہارا یہ طعنہ مجھ پر نہ ہوگا بلکہ اسلام اور بانئی اسلام علیہ السلام پر ہوگا۔ ساس نند بھی خوب یادرکھیں کہ اگر انہوں نے یہ جواب سن کربھی زبان نہ روکی۔ تو ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔
لطیفہ: حضر ت امام محمدرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کرنے لگا۔ کہ میں نے قسم کھائی تھی کہ اپنی بیٹی کو جہیز میں ہر چیز دو ں گا۔ اب کیا کرو ں کہ قسم پوری ہو۔ کیونکہ ہر چیز تو بادشاہ بھی نہیں دے سکتا۔ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی لڑکی کو جہیز میں قرآن شریف دے دے کیونکہ قرآن شریف میں ہر چیز ہے اور آیت پڑھ دی