Brailvi Books

اسلامی زندگی
56 - 158
جیسے سحری کے وقت اٹھانے کے لئے رمضان شریف میں پیٹی جاتی ہے تو بھی بہت اچھا ہے یہ ہی ضربِ دف کے معنے ہیں۔
جہیز:
    جہیز کے لئے بھی کوئی حد ہونی چاہيے کہ جس کی ہر امیر وغریب پابندی کرے۔ امیر لوگ اور موقع پر اپنی لڑکیوں کو جوچاہیں دیں۔ مگر جہیز وہ دیں جو مقرر ہوگیا یا د رکھو اگر تم جہیز سے دولہا کا گھر بھی بھر دو گے تو بھی تمہارا نام نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بعض جگہ بھنگی چمارو ں نے اتنا جہیز دے دیا ہے کہ مسلمان بڑے مالدار بھی نہیں دے سکتے۔ چنا نچہ چند سال گزرے کہ آگر ے(ھند کے ایک شہر) میں ایک چمار نے اپنی لڑکی کو اتنا جہیز دیا کہ وہ بارات کے ساتھ جلوس کی شکل میں ایک میل میں تھا۔ اس کی نگرانی کے لئے پولیس بلانی پڑی جب اس سے کہا گیا کہ اتنا جہیز رکھنے کے لئے دولہا کے پاس مکان نہیں ہے تو فورا چھ چھ ہزار یعنی بارہ ہزار روپے کے مکان خرید کر دولہا کو دے دیئے چنانچہ اب ہم نے خود دیکھا کہ جو مسلمان اپنی جائیداد ومکان فروخت کر کے اتنا جہیز دیتے ہیں تو دیکھنے والے اس چمار کے جہیز کا ذکر شرو ع میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھائی وہ چمار جہیز کا ریکارڈ تو ڑگیا۔ اس مسلمان بیچا رے کا نام نہ تعریف لہٰذا اے مسلمانو!ہوش کرو۔ اس ناموری کے لالچ میں اپنے گھر کو آگ نہ لگاؤیا در کھو کہ نام اور عزت تو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پیروی میں ہے۔ لہٰذا جو جہیز ہم عرض کرتے ہیں اس سے زیادہ ہر گز نہ دو۔
    بر تن ااعدد، چا ر پائی درمیانی ایک عد د، لحاف ایک عد د۔ تو شک (گدیلا)
Flag Counter