Brailvi Books

اسلامی زندگی
54 - 158
بیاہ شادی کی اسلامی رسمیں :
    سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ اپنی اولاد کے نکاح کیلئے حضرتِ خاتونِ جنّت شاہزادئ اسلام فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاحِ پاک کو نمونہ بناؤ اور یقین کروکہ ہماری اولاد ان کے قدم پاک پر قربان اور یہ بھی سمجھ لو کہ اگر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مرضی ہوتی کہ میری لختِ جگر کی شادی بڑ ی دھوم دھام سے ہو اور صحابۂ کرا م سے اس کیلئے چندہ (نیوتا)وغیرہ کیلئے حکم فرمادیا جاتا تو عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خزانہ موجود تھا۔ جو ایک ایک جنگ کیلئے نو نو سو اونٹ اور نو نو سو اشرفیاں حاضر کردیتے تھے۔لیکن چونکہ منشا یہ تھا کہ قیامت تک یہ شادی مسلمانوں کیلئے نمونہ بن جائے۔ اس لیے نہایت سادگی سے یہ اسلامی رسمیں ادا کی گئیں۔ لہٰذا مسلمانو! اوّلاً تو اپنی بیاہ بارات سے ساری حرام رسمیں نکال ڈالو،باجے آتشبازی، عورتوں کے گانے، میراثی ڈوم وغیرہ کے گیت، رنڈیوں کے ناچ،عورتوں اور مردوں کا میل جول، پھول پتی کا لٹانا ایک دم اللہ عزوجل! کا نام لے کر مٹادو۔ اب رہی فضول خرچی کی رسمیں ان کو یاتو بند ہی کردو اگر بند نہ کرسکو تو ان کیلئے ایسی حد مقرر کردو جس سے فضول خرچی نہ رہے اور گھر کی بربادی نہ ہو۔ جنہیں امیر و غریب سب بے تکلف پورا کرسکیں۔ لہٰذا ہماری رائے یہ ہے کہ اس طریقہ سے نکاح کی رسم ادا ہونی چاہے۔
    بھات (نانکی چھک) کی رسم بالکل بند کردی جائے اگر دولہا، دلہن کا ماموں نانا کچھ امداد کرنا چاہیں تو رسم بناکر نہ کریں بلکہ محض اس لئے کہ قرابت داروں کی مدد کرنا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا حکم ہے اس لئے بجائے کپڑوں کے نقد
Flag Counter