| اسلامی زندگی |
نہیں پاتے اور جب ان شاء اللہ عزوجل! عبادت کی نیت سے آیاکریں گے تو جیسے لوگ عید کی نماز کیلئے عید گاہ میں جاتے ہیں تب ان شاء اللہ عزوجل! رونق ہی کچھ اور ہوگی اور بہار ہی کچھ اور آئے گی۔ ابھی یہاں گجرات میں بھائی فضل الٰہی صاحب کے گھر ایسی ہی سیدھی سادی شادی ہوئی۔ اس قدر مجمع تھا کہ میں نے آج تک کسی بارات میں ایسا مجمع نہ دیکھا، بہت سے مسلمان تو وضو کرکے درودشریف پڑھتے ہوئے اس سارے جلوس میں شریک ہوئے۔
پانچواں بہانہ یہ کرتے ہیں کہ لوگ ہم کو طعنہ کریں گے کہ خرچ کم کر نے کیلئے یہ رسمیں بند کی ہیں اور بعض لوگ یہ کہیں گے کہ یہ ماتم کی مجلس ہے یہاں ناچ نہیں باجہ نہیں۔ گویا تیجہ پڑھا جارہا ہے، یہ عذر بھی بیکار ہے۔ ایک سنّت کو زندہ کرنے میں سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے۔ کیا یہ ثواب مفت میں مل جائے گا ؟لوگوں کے طعنے عوام کا مذاق، اوّل اوّل برداشت کرنے پڑیں گے اور دوستو! اب بھی لوگ طعنے دینے سے کب با ز آتے ہیں۔ کوئی کھانے کا مذاق اّڑاتا ہے کوئی جہیز کا کوئی اورطرح کی شکایت کرتا ہے غرضیکہ لوگوں کے طعنے سے کوئی کسی وقت نہیں بچ سکتا۔ لوگوں نے تو خدا تعالیٰ اور اس کے رسولوں کو عیب لگائے اور طعنے دیئے تم ان کی زبان سے کس طرح بچ سکتے ہو۔ یہ بھی یاد رکھو کہ پہلے تو کچھ مشکل پڑے گی۔ مگر بعد میں ان شاء اللہ عزوجل! وہ ہی طعنے دینے والے لوگ تم کو دعائیں دیں گے۔ اور غریب و غرباء کی مشکلیں آسان ہوجائیں گی۔اللہ عزوجل! اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی راضی ہوں گے اور مسلمان بھی، مضبوطی سے قائم رہنا شرط ہے۔