| اسلامی زندگی |
شادی دھوم دھام سے کردیتے ہیں۔ سبحان اللہ عزوجل! اپنے نام کیلئے روپیہ حرام کاموں میں برباد کرو اور لڑکی کے حصّے سے کاٹو۔ کیوں جناب! آپ جو لڑکے کی شادی او ر اس کی پڑھائی لکھائی پر جو خرچہ کرتے ہیں۔ بی۔ اے، ایم۔ اے، کی ڈگری دلواتے ہیں کیا وہ بھی فرزند کے میراث سے کاٹتے ہیں ہرگز نہیں۔ پھر یہ عذر کیسا ؟ یہ محض دھوکہ دینا ہے۔
تیسرے یہ کہ ہم کو علمائے کرام نے یہ باتیں بتائی ہی نہیں۔ اس لئے ہم لوگ اس سے غافل رہے، اب جب کہ رسوم چل پڑیں لہٰذا ان کا بند ہونا مشکل ہے۔ لیکن یہ بہانہ بھی غلط ہے علمائے اہل سنّت نے اس کے متعلق کتابیں لکھیں۔ مسلمانوں نے قبول نہ کیا چنانچہ امام اہل سنّت اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی قدس سرہ، نے ایک کتاب لکھی جَلِیُّ الصَّوْت جس میں صاف صاف فرمایا کہ میّت کی روٹی امیروں کیلئے کھانا حرام ہے صرف غریب لوگ کھائیں ایک کتاب لکھی ھَادِی النَّاس اِلیٰ اَحکامِ الاَعْرَاسِ جس میں شادی بیاہ کی مروجہ رسموں کی برائیاں بتائیں اور شرعی رسمیں بیان فرمائیں، ایک کتاب لکھی مروّجہ النجاء جس میں ثابت فرمایا کہ سوا چند موقعوں کے باقی جگہ عورت کو گھر سے نکلنا حرام ہے۔اور بھی علمائے اہلسنت نے ان باتوں کے متعلق کتابیں لکھیں۔ افسوس ! کہ اپنا قصور علماء کے سر لگاتے ہو۔
چوتھا بہانہ یہ کرتے ہیں کہ اگر شادی بیاہوں میں یہ رسمیں نہ ہوں تو ہمارے گھر لوگ جمع نہ ہوں گے جس سے شادی میں رونق نہ ہوگی۔ مگر یہ فقط وہم ودھوکا ہے حق یہ ہے کہ شادی و نکاح میں شرکت اگر سنّت کی نیّت سے ہوتو عبادت ہے اب تو ہمارے نکاحوں میں لوگ تماشائی بن کر یا کھانے کیلئے آتے ہیں۔ جس کا کچھ ثواب