Brailvi Books

اسلامی زندگی
51 - 158
بھی سسرال میں عزت ہوتی اور اگر خدا نہ کرے کہ کبھی لڑکی پر کوئی مصیبت آتی تو اس کے کرایہ سے اپنا برا وقت نکال لیتی۔
مسلمانوں کے کچھ بہانے:
    جب یہ خرابیاں مسلمانوں کو بتائی جاتی ہیں تو ان کو چند قسم کے عذر ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ صاحب ہم کیا کریں، ہماری عورتیں اورلڑکے نہیں مانتے، ہم ان کی وجہ سے مجبور ہیں۔ یہ عذر محض بیکار ہے، حقیقت یہ ہے کہ آدھی مرضی خود مردوں کی بھی ہوتی ہے۔ تب ان کی عورتیں اور لڑکے اشارہ یا نرمی پاکر ضد کرتے ہیں۔ ورنہ ممکن نہیں کہ ہما رے گھر میں ہماری مرضی کے بغیر کوئی کام ہوجائے۔ اگر ہانڈی میں نمک زیادہ ہوجائے تو عورت بے چاری کی شامت اور اگر اولاد یا بیوی کسی وقت نماز نہ پڑھے تو بالکل پرواہ ہی نہیں، جان لو کہ حق تعالیٰ نیّت سے خبردار ہے بعض بزرگوں(یعنی بوڑھے لوگوں) کو دیکھا گیا ہے کہ آگے آگے فرزند کی بارات مع ناچ باجے کے جارہی ہے اور پیچھے پیچھے یہ حضرت لاحول پڑھتے چلے جارہے ہیں او ر کہتے ہیں کیا کریں بچّہ نہیں مانتا، یقینا یہ لاحول خوشی کی ہے۔ حضرت سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے کیا خوب فرمایا
کہ لاحول گویند شادی کناں
 (یعنی : لاحول کہتے ہیں خوش ہو جاتے ہیں ۔)
    دوسرے پنجاب میں یہ قانون ہے کہ ماں باپ کے ما ل سے لڑکی میراث نہیں پاتی لکھ پتی باپ کے بعد سارا مال، جائداد، مکانات سب کچھ لڑکے کا ہے، لڑکی ایک پائی کی حقدار نہیں۔ بہانہ یہ کرتے ہیں کہ ہم لڑکی کی میراث کے بدلے اس کی
Flag Counter