| اسلامی زندگی |
نے کہا! شادی کے اخراجات جو اپنی قوم نے بنالئے ہیں،وہ فرض نہیں ہیں اور حج فرض ہے، فرمانے لگے:'' کچھ بھی ہوتا ہو ناک تو نہیں کٹوائی جاتی۔'' آخر حج نہ کیا، لڑکی کی شادی میں گلچھرّے اُڑائے۔
آپ نے بہت مالداروں کو دیکھاہوگا کہ حج ان کو نصیب نہیں ہوتا۔لگتاہے شادیوں سے ہی انہیں چھٹکارا نہیں ملتا۔ ادھر توجہ کیسے کریں یہ بھی خیال رہے کہ حج کرنا ہر اس شخص کا فرض ہے۔ جس کے پاس مکّہ معظّمہ جانے آنے کا کرایہ اور باقی مصارف ہوں یہ جو مشہور ہے کہ بڑھاپے میں حج کرو غلط ہے کیا خبر کہ بڑھاپا ہم کو لے گا یا نہیں اور یہ مال رہے گا یا نہیں۔
نویں خرابی یہ ہے کہ غریب لوگ لڑکی کے بچپن ہی سے کپڑے جمع کرنے شروع کرتے ہیں کیونکہ اتنے جوڑے وہ ایکدم نہیں بناسکتے۔ جب تک لڑکی جوان ہوتی ہے کپڑے گل جاتے ہیں انہیں گلے ہوئے کپڑوں کے جوڑے بناکر دیتے ہیں۔جب وہ پہنے جاتے ہیں تو دودن میں پھٹ جاتے ہیں جس سے پہننے والے گالیاں دیتے ہیں کہ ایسے کپڑے دینے کی کیا ضرورت تھی ؟
دسویں خرابی یہ ہے کہ دلہن والے مصیبت اُٹھا کر پیسہ برباد کرکے کاٹھ کباڑ یعنی میز و کرسیاں، مسہریاں لڑکی کو دے تو دیتے ہیں مگر دولہا کا گھر اتنا تنگ اور چھوٹا ہوتاہے کہ وہاں رکھنے کو جگہ نہیں اور اگر دولہا میاں کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں۔ تو جب دوچار دفعہ مکان بدلنا پڑتاہے تو یہ تمام کاٹھ کباڑ ٹوٹ پھوٹ کر ضائع ہوجاتا ہے۔جتنے روپے کا جہیز دیا گیا اگر اتنا روپیہ نقد دیا جاتا یا اس روپیہ کی کوئی دکان یا مکان لڑکی کو دیا جاتا تو لڑکے کے کام آتا اور اس کی اولاد عمر بھر آپ کو دعائیں دیتی اور لڑکی کی