| اسلامی زندگی |
چھٹی خرابی یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے چند اولاد ہیں پہلے کا نکاح تو بہت دھوم دھام سے کیا۔ اس ایک نکاح میں اس کا مصالحہ ختم ہوگیا۔ باقی اولاد کے فقط نکاح ہی ہوئے، کوئی رسم اد ا نہ ہوئی،کیونکہ روپیہ نہ تھا تو اب اس اولاد کو ماں باپ سے شکایت ہوتی ہے کہ بڑے بھائی میں کیا خوبی تھی جو ہم میں نہ تھی تو باپ اور اولاد میں ایسی بگڑتی ہے کہ خدا کی پناہ!
ساتویں خرابی یہ ہے کہ لڑکی والوں نے دولہا کے نکا ح کے وقت اتنا خرچ کرایا کہ اسکا مکان بھی رہن ہوگیا۔ بہت قرضہ سر پر سوار ہوگیا۔ اب دلہن صاحبہ جب گھر آئیں تو مکان بھی ہاتھ سے گیا اور مصیبت بھی آپڑی۔ تو نام یہ ہوتا ہے یہ دلہن ایسی منحوس آئی کہ ا سکے آتے ہی ہمارے گھر کی خیر و برکت اڑگئی اس سے پھر لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں یہ خبر نہیں کہ بے چاری دلہن کا قصور نہیں۔ بلکہ تمہاری ان ہندوانی رسمو ں کی'' برکت ''ہے۔
آٹھویں خرابی یہ ہے کہ ان رسموں کو پورا کرنے کیلئے غریب لوگ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی فکر کرنے لگتے ہیں، جو ں جوں اولاد جوان ہوتی ہے ان کی فکریں بڑھتی جاتی ہیں۔ اب نہ روٹی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ پانی۔ فکر یہ ہوتی ہے کہ کسی صورت سے پیسہ جمع کرو کہ یہ رسمیں پوری ہوں اب روپیہ جمع کر تے رہے۔ ا س روپیہ میں زکوٰۃ بھی واجب ہے اور حج بھی فرض ہوجاتاہے وہ نہیں ادا کرتے۔ کیونکہ اگر ان عبادات میں یہ روپیہ خرچ ہوگیا تو وہ شیطانی رسمیں کس طرح پوری ہوں گی۔ میں نے ایک صاحب کو دیکھاکہ ان کے پاس تقریباً دو ہزار روپیہ تھا، میں نے کہا:'' آپ پر حج فرض ہے،حج کو جاؤ۔'' فرمانے لگے کہ'' بڑا حج تو لڑکی کی شادی اور اس کا جہیز ہے۔'' میں