| اسلامی زندگی |
تیسری خرابی ان رسموں میں یہ ہے کہ ان کی وجہ سے شریف غریبوں کی لڑکیاں بیٹھی رہتی ہیں اور مالداروں کی لڑکیاں ٹھکانے لگ جاتی ہیں۔ کیونکہ لوگ اپنے بیٹوں کا پیغام وہاں ہی لے جاتے ہیں جہاں جہیز زِیا دہ ملے اگر ہر جگہ کیلئے جہیز مقرر ہوجائے کہ امیر و غریب سب اتنا ہی جہیز وغیرہ دیں تو ہر مسلمان کی لڑکی جلد ٹھکا نے لگ جائے(یعنی اس کی شادی ہوجائے)۔
چوتھی خرابی یہ ہے کہ ان رسموں کی وجہ سے مسلمانوں کی اپنی اولاد وبالِ جان معلوم ہونے لگی۔ کہ اگر کسی کے لڑکی پیدا ہوئی سمجھا کہ یا تو اب میرے مکان کی خیرنہیں یا جائیداد و دکان چلی۔ اسی لئے لو گ لڑکی کے پیدا ہونے پر گھبراتے ہیں یہ ان رسموں کی'' برکت ''ہے۔
پانچویں خرابی یہ ہے کہ نکاح مقصود ہوتا ہے دوقوموں کا مل جانا یعنی لڑکے والے لڑکی والے کے قرابت دار اور محب بن جائیں۔ اور لڑکی والے، لڑکے والے کے۔اسی لئے اس کا نام نکاح ہے، نکاح کے معنیٰ ہیں مل جانا تو یہ نکاح قبیلوں اور جماعتوں کے ملانے والی چیز ہے۔ مثل مشہو ر ہے کہ نکاح میں لڑکی دے کر لڑکا لیتے ہیں اور لڑکا دے کر لڑکی حاصل کرتے ہیں۔ مگر اب مسلمانوں نے سمجھ لیا کہ نکاح مال حاصل کرنے کا ذریعہ ہے جس کے چار فرزند ہوگئے وہ سمجھا کہ میر ی چار جائیدادیں ہوگئیں کہ ان کو بیاہوں گا، جہیز وں سے گھر بھرلوں گا۔ اب جب دلہن خاطر خواہ جہیز نہ لائی۔ لڑائی قائم ہوگئی اوراب عام طور نکاح لڑائی کی جڑ بن کر رہ گیا ہے کہ اپنے عزیزوں میں لڑکی دو تو آپس کا پرانا رشتہ بھی ختم ہوجاتا ہے کیوں ؟اس لئے کہ نکاح کو ایک مالی کاروبار سمجھ لیا گیا ہے۔