Brailvi Books

اسلامی زندگی
47 - 158
   لطیفہ: یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے گھر یہ براتی عمد ہ عمدہ مزیدار مال کھاکر جائیں مگر ان کا منہ سیدھا نہیں ہوتاکھانے میں عیب نکالتے ہیں مگر اولیا ء اللہ عزوجل! اور پیر و مرشد وں کے گھرسوکھی روٹیاں اور دال دلیہ خوشی سے تبرّک سمجھ کر تعریفیں کرتے ہیں۔وہ سوکھی روٹیاں اپنے بچوں کو پردیس میں بھیجتے ہیں، جاکر دیکھو اجمیر شریف کا دلیہ اور بغدادشریف اور دوسرے آستانوں کی دال روٹیاں۔ اسکی وجہ کیا ہے ؟
    دوستو! وجہ صرف یہ ہے کہ یہ کھانے مخلوق کو راضی کرنے کیلئے ہیں اور وہ خشک روٹیاں خالق کیلئے اگر ہم بھی شادی بیاہ کے موقع پر کھانا، جہیز وغیرہ فقط سنّت کی نیّت سے سنّت طریقہ پر کریں تو کبھی کوئی اعتراض ہوسکتا ہی نہیں۔ ہمارے دوست سیٹھ عبد الغنی صاحب ہرسال بقر عید کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف سے قربانی کرتے ہیں اور پلاؤ پکاکر عام مسلمانوں کی دعوت کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ معز ز مسلمان جوکسی کی شادی بیاہ میں بڑے نخرے سے جاتے ہیں وہ بغیر بلائے یہاں آجاتے ہیں اور اگر آخری ایک اثر(یعنی لقمہ) بھی پالیتے ہیں تو سمجھ کر کھاتے ہیں۔ ابھی قریب میں ہی انجمن خدام الصوفیہ کے صدر فضل الٰہی صاحب پگانوالہ رئیس گجرات نے ولیمہ کی دعوت نیتِ سنّت سے کی نہ کسی کو شکایت ہوئی اور نہ کسی نے عیب نکالا۔ عرض یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام پاک عیب پوش ہے جس چیز پر ان کا نام آجائے اس کے سب عیب چھپ جاتے ہیں اگر ہم لوگ ولیمہ کا کھانا سنّت کی نیّت سے کریں تواگر دال روٹی بھی مسلمانوں کے سامنے رکھ دیں گے تو وہ بھی مسلمان برکت کی نیت سے سیر ہوکر کھائیں گے۔
Flag Counter