Brailvi Books

اسلامی زندگی
46 - 158
چاندی کے چھلّے اور انگوٹھیوں کی بکھیر ہوتی ہوئی روانگی ہوئی۔ سبحان اللہ عزوجل! کیا پاکیزہ مجلس ہے کہ آگے بھنگیوں اور چماروں کے بچّے لوٹنے والوں کا ہجوم پھر باجے والے میراثیوں کی جماعت اور جماعتِ شرفا پیچھے اگر آنکھ ہو تو ایسی مجلس میں شرکت بھی معیوب سمجھو،کہاں تک بیان کیا جائے؟ بعض وہ رسمیں ہیں جن کے بیان سے شرم بھی آتی ہے کہ اس کتاب کو غیر مسلم قومیں بھی پڑھیں گی۔ وہ مسلمانوں کے متعلّق کیا رائے قائم کریں گی ! حق یہ ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے ایسے ناخلف اولاد ہوئے کہ ہم نے ان کے نام کو ڈبو دیا۔ آج ایسی رسمیں بھنگی چماروں میں بھی نہیں جو مسلمانوں میں ہیں۔
ان رسموں کی خرابیاں:
    ان رسموں کی خربیاں میں کیا بیان کروں، صرف اتنا عرض کردیتا ہوں کہ ان رسموں نے مسلمان مالداروں کو غریب کنگال بنادیا۔ گھر والوں کو بے گھر کردیا۔مسلمانوں کے محلّے ہندوؤں کے پا س پہنچ گئے، ہر شخص اپنے شہرمیں صد ہا مثالیں اپنی آنکھوں سے دیکھتاہے۔ اب چند خرابیاں جو موٹی موٹی ہیں عرض کرتاہوں۔اوّل خرابی یہ ہے کہ اس میں مال کی بربادی اور حق تعالیٰ کی نافرمانی ہے ،
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم 

                   نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
   دوسرے یہ کہ یہ سارے کام اپنے نام کے لئے کئے جاتے ہیں۔ مگر دوستو ! سوائے بدنامی کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کھانے والے تو کھانے میں عیب نکالتے ہوئے جاتے ہیں کہ اس میں گھی ولایتی تھا، نمک زِیادہ تھا، مرچ اچھی نہ تھی اور دولہا والے ہمیشہ شکایت ہی کرتے دیکھے گئے، لڑکی کیلئے وہاں طعنے ہی طعنے ہوتے ہیں۔
Flag Counter