آگے ناچنے والی رنڈیاں بھی ہوتی ہیں۔ گولے چلائے جاتے ہیں، آتشبازی میں آگ لگتی ہے۔ بَری اس میوہ (فروٹ ) کو کہتے ہیں جو دولہا کی طرف سے جاتی ہے جس میں شکر، ایک من ناریل، مکھانا وغیرہ، تیس سیر کچا دودھ وغیر ہ بھی ہوتا ہے۔ دلہن کے گھر یہ چیزیں دی جاتی ہیں جو بعد شادی تقسیم ہوتی ہیں۔ جب بارات دلہن کے مکان پہنچی تو اوّل وہاںآتشبازی میں آگ لگائی گئی، پھر پھول پتی لٹائی گئی، پھر تمام باراتیوں کو دلہن کی طرف عام دعوت دی گئی، پھر نکاح ہوا، دولہا مکان میں گیا جہاں پہلے سے عورتوں کا مجمع لگا ہوا ہے۔ اس موقع پر بڑی پردہ نشین عورتیں بھی دولہا کے سامنے بے تکلف بغیر پردہ آجاتی ہیں۔ ۱؎ گالیوں سے بھرے ہوئے گانے گائے جاتے ہیں۔ سالیاں بہنوئی سے قسم قسم کے مذاق کرتی ہیں (حالانکہ سالیوں کا بہنوئی سے پردہ سخت ضروری ہے )، میراثن وغیرہ اپنے حقوق وصول کرتی ہیں۔ پھر رخصت کی تیاری ہوتی ہے جہیز دکھایا جاتا ہے۔ جہیز میں تین قسم کی چیزیں ہوتی ہیں، ایک تو دولہا والوں کیلئے کپڑوں کے جوڑے یعنی دولہا اسکے ماں باپ،دادادادی،نانا نانی، ماموں، بھائی، چچا، تایا تائی، بھنگی، بہشتی، نائی غرضیکہ سب کو جوڑے ضرور دئیے جاتے ہیں۔جن کا مجموعہ بعض جگہ اسّی نوّے جوڑے ہوتے ہیں۔ دوسرے کاٹھ کباڑ یعنی میزیں، کرسیاں، برتن، چارپائیاں وغیرہ تیسرے روز ان سب کی نمائش کے بعد رخصت ہوئی، جس میں باہر باجا کا شور اندر رونے چلّانے والوں کا زور ہوتاہے۔ پالکی میں دلہن سوار آگے دولہا گھوڑے پر سوار پالکی پرپیسوں بلکہ پنجاب میں روپوں اور