Brailvi Books

اسلامی زندگی
44 - 158
اور کچھ وہ جو دلہن کے گھر۔دولہا کے تو یہ ہوتا ہے کہ دولہا کو نائی غسل دیتا ہے اور وہ ہی کپڑے بدلواتا ہے، سرخ رنگ کی پگڑی باندھ کر اس پر سنہری گوٹا لپیٹ دیا جاتا ہے، پھر اس پر سہرا باندھتا ہے جس میں پھول پتی اور نلکیاں لگی ہوتی ہیں۔ نائی یہ کام کرکے ایک تھالی رکھ دیتا ہے جس میں تمام قرابت دار مرد، روپیہ پیسا نچھاور کرکے ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد عورتیں نچھاور کرتی ہیں۔ جو نائی کی بیوی نائن کا حق ہوتا ہے اور آج سے پہلے سارے قرابت دار جمع ہوچکتے ہیں جو کھانا کھاتے جاتے ہیں اور نیوتے کے روپے دیے جاتے ہیں اور لکھنے والا و ہ روپے لکھتا جاتا ہے۔ اس کھانے کا نا م برات کی روٹی ہے۔ اس وقت زِیادہ قابلِ رحم دولہا کے نانا ماموں کی حالت ہوتی ہے کیوں کہ ان پر ضروری ہے کہ بھات لے کر آئیں ورنہ ناک کٹ جائیگی۔ اس بھات کی رقم نے صد ہا گھر برباد کردئیے۔ بھات میں ضروری ہے کہ دولہا اور اس کے تمام قرابت دار وں کے لیے کپڑے کے جوڑے، کچھ نقدی اور کچھ غلہ دیں۔ بعض جگہ چالیس پچاس جوڑے تک لانے پڑتے ہیں۔ اگر ایک جوڑا پانچ روپے میں بھی بناؤ تو ڈھائی سو روپے ٹھنڈے ہوگئے۔ خود میں نے ایک دکاندار کو دیکھاکہ بڑے مزے سے گزر کر رہا تھا، بھانجی کی شادی آن پڑی، میں نے ان کو بہت سمجھایا کہ بھات نہ دے یا اپنی حیثیت کے مطابق دے وہ نہ مانا۔ آخر کار اسکی دکان بھات کی نذر ہوگئی اب بہت مصیبت میں ہے۔
   بھانجی کے نکاح میں یہ بھی ضروری ہوتاہے کہ کپڑوں کے جوڑوں کے سوا بھانجی کو زیور یا برات کی روٹی ماموں کرے۔ غرضیکہ ایک شادی میں چار گھروں کی بربادی ہوجاتی ہے۔ جب یہ رسمیں ہوچکیں تو اب برات چلی، جس کے ساتھ بَری (یعنی دولہاکی طرف سے دلہن کے لئے بھیجا جانے والا سامان)اور آگے باجا۔ بلکہ بعض دفعہ آگے
Flag Counter