ایسے نکاح کے سارے قرابت دار ذمہ دار ہوجاتے ہیں اور اگر دلہن اور دولہامیں نااتِّفاقی ہوجائے تو یہ لوگ مل کر اتفاق کی کوشش کرتے ہیں۔ منگنی دراصل نکاح کا وعدہ ہے اگر یہ نہ ہو جب بھی کوئی حرج نہیں۔ لہٰذا بہتر تو یہ ہے کہ منگنی کی رسم بالکل ختم کردی جائے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور سوائے نقصان کے اس سے کوئی فائدہ نہیں غالباً ہم نے یہ رسمیں ہندوؤں سے سیکھی ہیں کیوں کہ سوائے ہندوستان کے او ر کہیں یہ رسم نہیں ہوتی بلکہ عربی اور فارسی زبانوں میں اس کا کوئی نام بھی نہیں۔ ا س کے جتنے نام ملتے ہیں سب ہندی زبان کے ہیں۔ چنانچہ منگنی، سگائی، کڑمائی، ساکھ یہ اس کے نام ہیں اور ان میں کوئی بھی عربی فارسی نہیں۔ اور اگر اس کا کرنا ضروری ہی ہوتو اس طرح کرو کہ پہلے لڑکے والے کے یہاں اس کے قرابت دار جمع ہوں اور وہ ان کی خاطر تواضع صرف پان ۲؎ اور چائے سے کرے۔ اگر کہیں پان کا رواج نہ ہو جیسے
رحمت عالم،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے منگنی کرنے والے سے فرمایا :'' اسے(یعنی عورت) دیکھ لو کہ یہ تمہاری باہمی محبت کو قائم رکھنے کے لئے زیادہ مناسب ہے ۔''(سنن الترمذی،کتاب النکاح،الحدیث۱۰۸۹، ج۲،ص۳۴۶)
۲؎: پان کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے امیرِ اہلِسنّت مدظلہ العالی کے رسالے ''پان،گٹکا''کا مطالعہ کیجئے۔