Brailvi Books

اسلامی زندگی
42 - 158
پنجاب تو وہ صرف خالی چائے سے جس کے ساتھ کوئی مٹھائی نہ ہو۔ پھر یہ لوگ اُٹھ کر لڑکی والے کے یہاں آجائیں وہ بھی ان کی تواضع صرف پان یا خالی چائے سے کرے۔ لڑکے والے اپنے ساتھ دلہن کیلئے ایک سوتی دوپٹہ اور ایک سونے کی نتھ (نتھنی) لائے جو پیش کردے۔دلہن والوں کی طرف سے لڑکے کو ایک سوتی رومال ایک چاندی کی انگوٹھی،ایک نگینہ والی پیش کردی جائے جس کا وزن سوا چار ماشہ سے زیادہ نہ ہو کیوں کہ مرد کو ریشم اور سونا پہننا حرام ہے، لو یہ منگنی ہوگئی اگر دوسرے شہر سے منگنی کرنیوالے آئے ہیں تو ان میں سات آدمی سے زیادہ نہ آئیں اور دلہن والے مہمانی کے لحاظ سے ان کو کھانا کھلادیں مگر اس کھانے میں دوسرے محلہ والوں کی عام دعوت کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر اس کے بعد لڑکے والے جب بھی آئیں تو ان پر مٹھائی اور کپڑوں کے جوڑوں کی کوئی پابندی نہ ہو۔ اگر اپنی خوشی سے ایسے ہی بچوں کیلئے تھوڑی سي مٹھائی لائیں تو اس کو محلہ میں تقسیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حدیثِ پا ک میں ہے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دو محبت بڑھے گی۔
(شعب الایمان، باب فی مقاربۃ وموادۃ، فصل فی المصافحۃ ۔۔۔۔۔۔ الخ، الحدیث ۸۹۷۶، ص ۴۷۹)
    مگر اس ہدیہ کو ٹیکس نہ بنالو کہ وہ بے چارہ اس کے بغیرآہی نہ سکے۔ تاریخ کا مقرر کرنا بھی اسی سادگی سے ہونا ضروری ہے کہ اگراسی شہر سے لوگ آرہے ہیں تو ان کی تواضع صرف پان یا خالی چائے سے ہو اور اگر دوسرے شہر سے آرہے ہیں تو پانچ آدمی سے زیادہ نہ ہوں۔ جن کی تواضع کھانے سے کی جائے اور مقرر کرنے والے سن رسیدہ بزرگ لوگ ہوں اور بہتر یہ ہے کہ شادی کیلئے جمعہ یا سوموار (پیر) کا دن مقرر
Flag Counter