سے زیور واپس مانگا جاتاہے اُدھر سے انکار ہوتا ہے۔ جس پر مقدمہ بازی کی نوبت آتی ہے۔اسی طرح منگنی کے وقت دعوت اور فضول خرچی کا حال ہے اگر منگنی چھوٹ گئی تو مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمارا خرچہ واپس کردو اور دونوں فریق خوب لڑتے ہیں۔ بعض دفعہ منگنی میں اتنا خرچ ہوجاتا ہے کہ فریقین میں شادی کے خرچ کی ہمّت نہیں رہتی۔ پھر کبھی کبھی کپڑوں کے جوڑے اور مٹھائیوں کے خرچ لڑکے والوں کا دیوالیہ نکال دیتا ہے اور شادی کے وقت غور ہوتا ہے کہ دلہن والوں نے اس قدر جہیز اور زیور وغیرہ دیا نہیں جو میرا خرچ کرا چکا ہے، اگر لڑکی والے نے اتنا نہ دیا تو لڑکی کی جان سولی پر رہتی ہے کہ تیرے باپ نے ہمارا لے لے کر کھایا، دیا کیا؟اور اگر خوب دیا تو کہتے ہیں کہ کیا دیا !ہم سے بھی تو خوب خرچ کرالیا۔ باقی گانے بجانے کی رسموں میں وہ خرابیاں ہیں جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ مائیاں اور اُبٹن کی رسمیں بہت سارے حرام کاموں کا مجموعہ ہیں اس لیے ان تمام کو بند کرنا ضَروری ہے۔