اور یہ بھی یاد رکھو کہ تین قسم کے مالوں میں برکت نہیں۔ ایک تو زمین کا پیسہ یعنی زمین یا مکان فروخت کرکے کھاؤ۔ اس میں کبھی برکت نہیں چاہے یا زمین نہ فروخت کرو اور اگر فروخت کرو تو اس کا پیسا زمین ہی میں خرچ کرو۔ (حدیث ) دوسری یہ کہ لڑکی کا پیسا یعنی لڑکی والے جو روپیہ لے کر شادی کرتے ہیں اس میں برکت نہیں اور پیسا لینا حرام ہے کیوں کہ یا تو یہ لڑکی کی قیمت ہے یا رشوت یہ دونوں حرام ہیں۔ تیسرے وہ جہیز ومال جو لڑکی اپنے میکے سے لائے اگر دولہا اس کو گزر اوقات کا ذریعہ بنادے تو اس میں برکت نہیں ہوگی۔ اپنی قوتِ بازو پر بھروسا کرو،داڑھی اور نماز کا مذاق اڑانے والے سب کافر ہوئے۔ ۱؎ یہ بھی یاد رکھو کہ مولویوں اور دینداروں کی بیویاں فیشن والوں کی بیویوں سے زِیادہ آرام میں رہتی ہیں۔ اوّل تو اس لئے کہ دیندار آدمی خدا تعالیٰ کے خوف سے بیوی بچوں کا حق پہچانتا ہے۔ دوسرے یہ کہ دیندار آدمی کی نگاہ صرف بیوی ہی پر ہوتی ہے اور آزادلوگوں کی ٹمپریری(یعنی عارضی) بیویاں بہت سی ہوتی ہیں۔ جن کا دن رات تجربہ ہورہا ہے۔ وہ پھول کو سونگھتا اورہر باغ میں جاتا ہے۔ کچھ دنوں تو اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے پھر آنکھ پھیر لیتا ہے۔ منگنی کی رسموں کی خرابیاں بیان سے باہر ہیں۔ بہت سے لوگ سودی قرض سے یا مانگ کر زیور چڑھادیتے ہیں۔شادی کے بعد پھر دلہن سے وہ زیور حیلے بہانے سے لے کر واپس کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپس میں خوب لڑائیاں ہوتی ہیں اور شروع کی وہ لڑائی ایسی ہوتی ہے کہ پھر ختم نہیں ہوتی اور کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ منگنی ٹوٹ جاتی ہے پھر دلہن والوں