Brailvi Books

اسلامی زندگی
20 - 158
    فرزند کی پیدائش کی خوشی میں نوافل پڑھنا اور صدقہ خیرات کرنا کارِ ثواب ہے مگر برادری کے ڈر، ناک کٹنے کے خوف سے مٹھا ئی تقسیم کرنا بالکل بے فائدہ ہے اور اگر سُودی قرضہ لے کر یہ کام کئے تو آخرت کا گناہ بھی ہے۔ اس لئے اس رسم کو بند کرنا چاہے۔
     ڈوم میراثی لوگو ں کو دینا ہر گز جائز نہیں کیوں کہ ان کی ہمدردی کرنا دراصل ان کو گناہ پر دلیر کرنا ہے۔ اگر ان موقعوں پر ان کو کچھ نہ ملے تو یہ تما م لوگ ان حرام پیشوں کو چھوڑ کر حلال کمائی حاصِل کریں گے مجھے تعجّب ہوتا ہے کہ یہ قومیں یعنی زنانے خنثٰی(یعنی ہیجڑے)ڈوم میراثی، رنڈیاں صرف مسلمان قوم ہی میں ہیں۔ عیسائی، یہودی، ہندو،سکھ اور پارسی قوموں میں یہ لوگ نہیں۔اس کی کیا وجہ ہے ؟ وجہ صر ف یہ ہے کہ مسلمانوں میں خرافات رسمیں زِیاد ہ ہیں،اور ان لوگوں کی انہی رسموں کی وجہ سے پرورش ہوتی ہے اور دیگر قوموں میں نہ یہ رسمیں ہیں نہ اس قسم کے لوگ اور یقینا ایسی پیشہ ور قومیں مسلم قو م کی پیشانی پر بدنُما داغ ہیں، خدا کرے یہ لوگ حلال روزی کماکر گزارہ کریں۔
   بہن، بہنوئی یا دیگر اہلِ قرابت کی خدمت کرنا بے شک کارِ ثواب ہے مگر جب کہ اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو خوش کرنے کیلئے کی جائے اگر دنیا کے نام و نمود اوردکھلاوے کیلئے یہ خدمتیں ہوں تو بالکل بے کار ہے۔ دکھلاوے کی نماز بھی بے فائدہ ہوتی ہے اور اس موقع پر کسی کی نیّت رضائے الٰہی عزوجل نہیں ہوتی، محض رسم کی پابندی اور دکھلاوے کیلئے سب کچھ ہوتا ہے ورنہ کیا ضَرورت ہے کہ چھوچھک کے آگے باجا بھی ہودنیا کو بھی جمع کیا جائے، پھر مالدار آدمی اس خرچ کو برداشت کرلیتا
Flag Counter