Brailvi Books

اسلامی زندگی
19 - 158
میں (یہ ہے )کہ دولہادلہن، ساس سسر، نند نندوائی، حتٰی کہ گھر کے بہشتی بھنگی کیلئے بھی کپڑوں کے جوڑے نقدی اور اگر لڑکی پیدا ہوئی ہے تو بچّی کیلئے چھوٹا چھوٹا زیور ہونا ضَروری ہے غرضیکہ میکہ و سسرال کا دیوالیہ ہوجاتا ہے۔
(۸)     مالن اور بھٹیاری (یعنی روٹی پکانے والی)گھر کے دروازے پر پتّوں کا سہرا یا کاغذ کے پھول باندھتی ہیں جس کے معاوضہ میں ایک جوڑا اور روپیہ کم از کم وصول کرتی ہیں۔
اِن رسُومات کی خرابیاں:
    لڑکی پیدا ہونے سے رنج کرنا کفّار کا طریقہ ہے۔ جس کے متعلق قراٰنِ کریم فرماتا ہے :
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ۵۸﴾
(ترجمہ کنزالایمان)اورجب ان میں کسی کوبیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تودن بھراس کامنہ کالارہتاہے اوروہ غصہ کھاتاہے۔(پ14،النحل58)
    بلکہ حق یہ ہے کہ جس عورت کے پہلے لڑکی پیداہو وہ رب تعالیٰ کے فضل سے خوش نصیب ہے کیوں کہ حضور سیِّدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے دولت خانہ میں اوّل دختر ہی پیدا ہوئی تو گویا رب تعالیٰ نے سنّتِ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم عطا فرمادی۔
   جو ان لڑکیوں کا گانا بجانا حرام ہے کیوں کہ عورت کی آواز کا بھی نامحرموں سے پردہ ہونا ضروری ہے۔ اگر عورت نَماز پڑھ رہی ہو اور کوئی آگے سے گزرنا چاہے تو یہ عورت سبحان اللہ عزوجل !کہہ کر اس کی اطِّلاع نہ دے بلکہ تالی سے خبر دے جب آواز کی اس قدر پردہ داری ہے تو یہ مروّجہ گانے اور باجے کا کیا پوچھنا۔
Flag Counter