| اسلامی زندگی |
ہے مگر غریب مسلمان ان رسموں کو پورا کرنے کیلئے یا تو سودی قرض لیتا ہے یا گھر رہن کرتا ہے لہٰذا ان تمام مصارف کو بند کرنا نہایت ضَروری ہے۔ ہزارہا موقعوں پر اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو اس لئے دو کہ یہ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا حکم ہے۔مگر ان رسموں کو مٹادو، زکام روکو تاکہ بخار جائے۔ آج یہ حالت ہے کہ اگر بچّہ پیدا ہونے پر دلہن کے میکے سے یہ رسمیں پوری نہ کی جائیں تو ساس و نند کے طعنوں سے لڑکی کی زندگی وبال ہوجاتی ہے اور ادھر خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے اگر یہ رسمیں مٹ جائیں تو ان لڑائیوں کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔
اسلامی رسمیں:
بچّہ کے پیدا ہونے پریہ کام کرنے چاہیں:
بچّہ پیدا ہوتے ہی غسل دیا جائے، نال کاٹا جائے اور جس قدر جلدی ہوسکے اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے خواہ گھر کا کوئی آدمی اذان اور تکبیر کہہ دے یا مسجِد کا مؤذن یا امام کہے اور اگر اذان کہنے پر خیرات و صدقہ کی نیّت سے ان کی کوئی خدمت کردی جائے تو بہت اچھّا ہے کیونکہ یہ حق تعالیٰ کا شکریہ ہے پھر یہ کوشِش کی جائے کہ بچّے کو پہلی گھٹّی(گڑتی ) کوئی نیک آدمی دے کیوں کہ تفسیرِروح البیان میں ہے کہ ''بچّہ میں پہلی گھٹی دینے والے کا اثر آتا ہے اور اس کی سی عادات پیدا ہوتی ہیں ''بلکہ سنّت تو یہ ہے کہ بچّہ کو تھنیک کر دی جائے۔ تھنیک اسے کہتے ہیں کہ کوئی نیک آدمی اپنے منہ میں کھجور یا خرمہ چباکر اپنی زَبان سے بچّے کے پیٹ میں سب سے پہلے جو غذا پہنچے وہ خرمہ ہو اور کسی بزرگ کے منہ کا لعاب۔