| اسلامی زندگی |
جائیدادیں ، مکانات دکانیں ، ہندوؤں کے پاس سودی قرضے میں چلی گئیں اور بہت سے اعلی خاندان کے لوگ آج کرایہ کے مکانوں میں گز ر کررہے ہیں اورٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ایک نہایت شریف خاندانی رئیس نے اپنے باپ کے چالیسویں کی رو ٹی کے لئے ایک ہندو سے چار سور وپے قر ض لئے جس سے ستا ئیس سو روپے دے چکے ہیں اور پندرہ سواور باقی تھے ان کی جائیداد بھی قریبا ختم ہوچکی ۔اب وہ زندہ ہیں۔ صاحب اولاد ہیں فاقہ سے گز ر کر رہے ہیں۔
اپنی قوم کی اس مصیبت کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا ۔ طبیعت میں جوش پیدا ہوا کہ کچھ خدمت کرو ں ۔ رو شنائی کے چند قطرے حقیقت میں میرے آنسوؤں کے قطرے ہیں خدا کرے کہ اس سے قوم کی اصلاح ہوجائے ۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ بہت سے لوگ ان شادی بیاہ کی رسموں سے بیزار تو ہیں مگر برادری کے طعنوں اور اپنی ناک کٹنے کے خوف سے جس طر ح ہوسکتا ہے قرض ادھار لے کر ان جہالت کی رسموں کو پورا کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا مرد میدان نہیں بنتا جو بلا خوف ہر ایک کے طعنے برداشت کر کے تمام رسموں پرلات مار دے اور سنت کو زندہ کر کے دکھادے جو شخص سنت موکدہ کو زندہ کرے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے کیونکہ شہید تو ایک دفعہ تلوار کا زخم کھا کر مر جاتا ہے مگر یہ اللہ کا بندہ عمر بھر لوگوں کی زبانوں کے زخم کھاتا رہتاہے۔
واضح رہے کہ مروجہ رسمیں دو قسم کی ہیں ایک تو وہ جو شرعا نا جائز ہیں دوسری وہ جو تباہ کن ہیں اور بہت دفعہ ان کے پورا کرنے کے لئے مسلمان سودی قرض لیتے ہیں اور سود دینا بھی حرام ہے اور لینا بھی ۔ اس لئے یہ رسمیں حرام کا م کا ذریعہ ہیں اس رسالہ میں دو نوں قسم کی رسموں کا ذکر کیا جائے گا او ر بیان کا طریقہ یہ ہوگا کہ اس