Brailvi Books

اسلامی زندگی
155 - 158
خریدے گا ۔ عام تجارت میں نفع ایسا چا ہیے ، جیسے آٹے میں نمک ، ہاں نادرو نایاب چیزوں پر زیادہ نفع لیاجائے تو حرج نہیں ۔
(۴) بے جا خر چ :
ناواقف تاجر معمولی کا رو بار پر بہت خرچ بڑھالیتے ہیں۔ ان کی چھوٹی سی دکان اتنا خرچ نہیں اٹھاسکتی آخر فیل ہوجاتے ہیں ۔
مسلمان خریدارو ں کی غلطی:
     ہندو مسلمان تاجر کو دیکھنا چاہتے ہی نہیں ۔ انہیں مسلمان کی دکان کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں کسی مسلمان نے دکان نکالی تو  آس پاس کے ہندودکانداروں نے چیز یں فوراً سستی کردیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو بہت کما بھی چکے اور آئندہ کمائیں گے بھی ۔دو چار مہینے اگر نہ کمایا تو نہ سہی ۔ مسلمان خریدار ایک پیسے کی رعایت دیکھ کر بنیوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اپنے غریب بھائیوں پر نظر نہیں کرتے ۔ اگر ہندو کے ہاں پیسے کے چار پان مل رہے اور مسلمان کے ہاں تین تو مسلمان سے تین لو اور دل میں سمجھ لو کہ اگریہ مسلمان بھائی ہمارے گھر آتا تو اسے ایک پان کھلانا ہی پڑتا ۔ ہم نے ایک پان سے اس کی تو اضع ہی کردی ۔ دل میں کچھ گنجائش پیدا کرو ۔ دلی گنجائش سے قومیں بنتی ہیں۔

حکایت :مجھ سے ایک تا جر نے کہا کہ ایک انگریز میری دکان پر چھڑی خرید نے آیامیں نے نہایت نفیس جاپانی چھڑی پیش کی جس کی قیمت بارہ آنے تھی۔ اس نے چھڑی بہت پسند کی اور بہت خوش ہوا مگر جاپان کی مہر پڑھتے ہی جھنجھلا کر پٹک دی بو لا
Flag Counter