Brailvi Books

اسلامی زندگی
150 - 158
سے خرید ے جاتے ہیں ۔ سلطنت کا مدار تجارت پر ہے آج ملکی جنگیں تجارت کے لئے ہوتی ہیں ۔

    تعمیرِ مسجد کے لئے اینٹ ، چونا وغیرہ تا جروں کے ہاں سے آتا ہے ، مسجد کے مصلے چٹائیاں تاجر کی دکان سے آتے ہیں ، غلاف ِکعبہ کے لئے کپڑاتا جر ہی سے ملتا ہے ۔ ستر پوشی کے لئے کپڑا اور رو زہ افطار کرنے کے لئے افطاری دکان سے ہی خریدی جاتی ہے ، قرآن وحدیث چھاپنے کے لئے کا غذ رو شنائی تاجر سے ہی ملتی ہے غرضیکہ تجارت دین ودنیا کے لئے ضروری ہے مگر افسوس کہ ہند و ستا ن کے مسلمان اس سے بے بہرہ ہیں۔

    ہندوستا ن میں مسلمانوں کی تعداد د س کرو ڑ ہے اگر فی کس آٹھ آنے یومیہ خرچ کا اوسط ہو تو مسلمان پانچ کر وڑ رو پیہ رو ز خرچ کر تے ہیں اور سب تقریبا غیر قوموں کے پاس جاتا ہے گو یا ہر دن مسلم قوم پانچ کرو ڑ رو پیہ کفا ر کی جیب میں ڈالتی ہے ۔ اسی حساب سے مسلمانوں کا ما ہوار ڈیڑ ھ ارب رو پیہ اور سالا نہ اٹھارہ ارب غیر قوم کے پاس پہنچتا ہے ۔

    کاش ! اگر اس کا آدھا روپیہ بھی اپنی قوم میں رہتا تو  آج ہماری قوم کے دن پھر جاتے۔ یہ سب ''بر کتیں ''تجارت سے دو ر ہنے کی ہیں ، ہم حج کو جائیں تو غیروں کی جیب بھریں ، عید منائیں تو غیر کھائیں ، غرضیکہ جئیں تو غیروں کو دیں اور مریں تو غیروں کو دے کر جائیں اس لئے اٹھواور تجارت میں کو د پڑو ۔ آہستہ آہستہ منڈیوں پر قبضہ کرلو اور اپنے قبضہ کا کام کرو کیونکہ دیا نتداری اور خیر خواہ آدمی نہیں ملتے ہر شخص اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتا ہے ۔