غرضیکہ حلال پیشو ں کو ذلت سمجھ کر اسے چھوڑ بیٹھنا سخت غلطی ہے اب تو زمانہ بہت پلٹ چکا ہے ۔ بڑے بڑے لو گ کپڑے اور سوت کے کار خانے قائم کر رہے ہیں ۔ تم کب تک سو ؤگے ، خواب غفلت سے اٹھو اور مسلم قوم کی حالت پلٹ دو ، بیکاروں کو باکار بناؤ ، قر ضداروں کو قر ض سے آزاد کرو ، اپنے بچوں کو جاہل نہ رکھو انہیں ضرور تعلیم دلواؤ اور ساتھ ہی کوئی ہنر بھی سکھا دو تا کہ وہ کسی کے محتا ج نہ رہیں۔
تجارت:
پہلے معلوم ہو چکاہے کہ تجارت پیشہ انبیاء ہے اس کے بے شمار فضائل ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ تاجر مر زوق ہے اور ضرورت کے وقت غلہ روکنے والا ملعون ہے۔
(سنن ابن ماجہ ،کتاب التجارات ، باب الحکرۃ والجلب ، الحدیث ۲۱۵۳، ج۳ ،ص۱۴)
بعض روایات میں ہے کہ رب تعالیٰ نے رزق کے دس حصے کئے نو حصے تا جر کو دیئے اور ایک حصہ ساری دنیاکو ۔
نیز رو ایت میں ہے کہ قیامت کے دن سچا اور امین تا جر انبیاء اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا ۔
تا جر در حقیقت تا جور ہے ۔ مثل مشہور ہے کہ تا جر کے سر پر تاج ہے ، تجارت سے دنیا کا قیام ہے ۔ تجارت سے با زارو ں کی رو نق ، ملکوں کی آبادی ، انسان کی زندگی قائم ہے ۔ مرے ، جیتے تجارت کی ضرورت ہے ، میت کا کفن اور قبر کے تختے تاجر ہی