| اسلامی زندگی |
وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ
ہم نے تمہیں مختلف قبیلے اس لئے بنایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو۔اللہ کے نزدیک عزت والاوہی ہے جو تم میں پر ہیزگارہو۔(پ26،الحجرات:13)
جیسے کہ زمین میں مختلف شہر اور گاؤں ہیں اور شہرو ں میں مختلف محلے تا کہ ملکی انتظام میں آسانی رہے اور ہر ایک سے خط و کتابت کی جاسکے ۔ ایسے ہی انسانوں میں مختلف قومیں ہیں اور ہر قوم کے مختلف قبیلے تا کہ انسان ایک دوسرے سے ملے جلے رہیں اور ان میں نظم اور انتظام رہے ۔محض قومیت کو شرافت یا رِ ذلالت کا مدار ٹھرانا سخت غلطی ہے ۔یقین کر و کہ کوئی مسلمان کمین نہیں اور کوئی کا فر شریف نہیں۔ عزت وعظمت مسلمانوں کے لئے ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ
عزت اللہ اور رسول کے لئے ہے اور مسلمانوں کے لئے ۔(28،المنافقون:8)
پھر مسلمانوں میں جس کے اعمال زیادہ اچھے اسی کی عزت ،زیادہ شریف وہ جو شریفوں کے سے کام کرے اور کمین وہ جو کمینوں کی سی حرکتیں کرے ۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔ہزار خویش کہ بے گا نہ از خدا با شد فدائے یک تنِ بے گا نہ کا شنا با شد
ہمارے وہ اپنے جو اللہ ورسول کے غیر ہوں اس ایک غیر پر قربان ہوجائیں جو اللہ و رسول کے اپنے ہوں جل واعلیٰ تبارک وتعالیٰ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔