مل گیا ،جو کپڑاسی کر اپنے بچوں کوپالے وہ درزی کہلا کر قوم سے باہر ہوا،جوروئی دھننے کا کام کرے وہ وہ دھنیا کہلایا گیا اور اٹھتے بیٹھتے ان پر طعنے بھی ہیں ان کا مذاق بھی اڑایا جارہاہے ۔با ت بات میں کہا جاتا ہے ہٹ جو لا ہے ، چل بے دھینے، دور ہوموچی ، یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی خاندان میں کسی نے بھی چمڑے کی تجارت کی تو اس کے پڑپوتو ں کو اپنی قوم میں لڑکی نہیں ملتی۔کہا جاتا ہے کہ اس کی فلانی پشت میں چمڑے کی دکان ہوتی تھی۔اس بیوقوفی کا یہ انجام ہوا کہ مسلمان سارے پیشو ں سے محرو م رہ گئے اب ان کے لئے صرف تین راستے ہیں یا لالہ جی کے ہاں ذلت کی نوکری کریں یا زمین جائیدادبیچ کر کھائیں یابھیک مانگیں، چوری کریں اور اپنی شرافت کواوڑ ھیں اور بچھائیں۔ خیال رکھو کہ تمام ملکوں میں ملک عرب اعلیٰ اورافضل ہے کہ وہاں ہی حج ہوتا ہے اور وہ ہی ملک آفتابِ نبوت کا مشرق ومغرب بنا ۔ با قی پنجاب ، بنگال ، یوپی ، سی پی ، ایران،تہران،چین وجاپان سب یکساں ہیں ، حج کہیں نہیں ہوتا نہ پنجابی ہونا کمال ہے ۔ نہ ہندو ستانی ہونا فخر ، نہ ایرانی ہونا ولایت ہے نہ تو رانی ہونا ، بے شک اہل عرب ہمارے مخدو م ہیں کہ وہ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوسی ہیں ایسے ہی حضرات ساداتِ کرام اسلام کے شہزادے اور مسلمانوں کے سردارہیں۔حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ قیامت میں سارے نسب حسب بیکار ہوں گے ۔ سوائے میرے نسب کے۔