عا م طو ر پر دیکھا گیا ہے کہ مسلمانوں میں اندھے ، اپا ہج لوگ اور بیوہ عورتیں ، یتیم بچے بھیک پر گزارہ کرتے ہیں ، جگہ جگہ ریلوں اور گھرو ں میں یتیم بچے یتیم خانوں کے نام پر بھیک مانگتے پھرتے ہیں مگر ہندونابینا،لولے، لنگڑے اپنے لائق محنت مزدوری کر کے پیٹ پالتے ہیں۔ میں نے بہت سے اندھے اور لنگڑے ہندو سرخی کوٹتے،تمباکوبناتے او ر ایسی مزدوری کرتے ہوئے دیکھے جو وہ نہ کرسکیں ۔ ان کے یتیم بچو ں کے لئے آشرم اور پاٹھ شالے (یعنی اسکول)کھلے ہوئے ہیں۔
امرتسرمیں ایک گوروگل(دارالیتامی)ہے جس میں ہندو یتیموں کو تعلیم دی جاتی ہے وہاں کا طریقۂ تعلیم یہ ہے کہ صبح دو گھنٹے پڑھائی اور دو گھنٹے کسی ہنر کی تعلیم مثلاًصابون سازی ، درزی گری ، کار چو بی ، وغیرہ پھر بعد دو پہر بچے دیا سلائی کی ڈبیاں،بٹن اور دیگر چھوٹی چھوٹی چیزیں لے کر بازار میں بیٹھ جاتے ہیں اور شام تک آٹھ دس آنے کمائی کرلیتے ہیں ۔ غرضیکہ بھیک سے بھی بچتے ہیں اور مدرسہ سے علم کے ساتھ ہنر بھی سیکھ کر نکلتے ہیں۔
اب بتلاؤ کہ جب مسلمانوں کے یہ بھکاری یتیم خانہ سے اور ہندوؤں کے