Brailvi Books

اسلامی زندگی
144 - 158
پہنچا نا یہ سب حرام ہیں۔ ایسے ہی جانور کے فو ٹو کی تجارت ناجائز ہے ۔فو ٹو بھی کھینچنا ، کھچوانا سب ناجائز ، جوئے کے کارو با ر حرام ، جوا کھیلنا ، کھلوانا، جوئے کامال لینا سب حرام ہیں۔ ایسے ہی مسلمانوں سے سودی کا رو با ر حرام ، سو د لینا ، دلوانا ، کھانا او راس کا گواہ بننا ، وکالت کرنا سب حرام ہے ۔ 

    علمائے متقدّمین امامت ، اذان ، مسجد کی خدمت ، علم دین کی تعلیم پر مزدوری لینے کو مکروہ فرماتے ہیں مگر علمائے متا خّرین نے جب یہ دیکھا کہ ا س صورت میں مسجدیں ویران ہوجائیں گی ، تعلیمِ دین بند اورامامت اذان موقوف ہوجائیں گی لہٰذا اسے بلا کر اہت جائزفرمایا ۔ تعویذ کی اجرت بلا کراہت جائز ہے۔

    خلاصہ یہ کہ حرام او ر مکروہ پیشو ں کے سوا کسی جائز پیشہ میں عا ر نہیں جو لوگ پیشہ کو عار سمجھ کر قر ضدار ہوگئے وہ دین ودنیا میں نقصان میں رہے ۔ مسلمانوں کی عقل پر کہاں تک ماتم کیا جائے ان اللہ کے بندوں نے سو دلینا حرام جانا اور دینا حلال سمجھا بلا ضرورت مقدمہ بازی ، شادی، غمی کی رسو م ادا کرنے کے لئے بے دھڑ ک سو دی قرض لے کر بر باد ہوتے ہیں ۔ 

    خیال رکھو کہ سو د لینے والا صرف گناہگار ہے اور سود دینے والا گناہگار بھی ہے اور بیوقوف بھی کہ سو د خور اپنی آخرت بر باد کر کے دنیا تو بنالیتا ہے مگر سود دینے والا بیوقوف اپنے دین ودنیا دونوں بر باد کرتا ہے ۔ میں نے ایک کتاب میں دیکھا کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں پر دیگر قوموں کا ڈیڑھ ارب وہ سو دی رو پیہ قرض ہے جن کے مقدمات دائر ہیں اور یہ تو دیکھنے میں آتاہے کہ مسلمانوں کے محلّے کے محلّے مکانات ، دکانیں ، جائیداد یں اس سود کی بدولت بنیوں کے پاس پہنچ گئیں ۔