Brailvi Books

اسلامی زندگی
143 - 158
کرام نے فرمایا کہ جا ئز پیشو ں میں تر تیب ہے کہ بعض سے بعض اعلیٰ ہیں ۔

    جن پیشو ں سے دین ودنیا کی بقا ہے دو سرے پیشو ں سے افضل ہیں چنا نچہ بہترصنعت دینی تصنیف اور کتا ب ہے کہ اس سے قرآ ن وحدیث او رسارے دینی علوم کی بقا ہے ۔ پھر آٹے کی پسائی اور چاول کی صاف کرائی کہ اس سے نفس انسان کی بقا ہے ۔ پھر روئی دھنائی،سو ت کتا ئی اور کپڑا بننا ہے کہ اس سے ستر پوشی ہے پھر درزی گر ی کا پیشہ بھی کہ اس کا بھی یہی فا ئدہ ہے ۔ پھر رو شنی کا سامان بنانا کہ دنیا کو اس کی بھی ضرورت ہے۔ پھر معماری ، اینٹ بنانا(بھٹہ) اورچونے کی تیاری ہے کہ اس سے شہر کی آبادی ہے ۔ رہی زرگری ، نقاشی ، کار چو بی ، حلوہ سازی ، عطر بنانا یہ پیشے جائزہیں مگر ان کا کوئی خاص درجہ نہیں کیونکہ فقط زینت کے سامان ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ بیکاررہنا بڑاجرم ہے اور ناجائز پیشے کرنا اس سے بڑھ کر جرم،رب تعالیٰ نے ہاتھ پاؤں وغیرہ بر تنے کے لئے دیئے ہیں نہ کہ بیکار چھوڑنے کے لئے۔  (تفسیر نعیمی،تفسیر عزیزی)
ناجائز پیشے:
    بے مروتی کے پیشے مکروہ ہیں جیسے ضرورت کے وقت غلہ روکنا (احتکار)غیالی کفن دوزی کے پیشے وکالت اور دلالی ۔ ہاں بو قت ضرورت ان دو نوں میں حرج نہیں جبکہ جھوٹ وغیرہ سے بچے،حرام چیز وں کے کارو بار حرام ہیں جیسے گانا بجانا ، نا چنا ، شکر ے بازی ، بیٹر با زی وغیرہ ۔جھوٹی گواہی کے پیشے ایسے ہی شراب کی تجارت کہ شراب کھینچنا ، کھچوانا ، بیچنا ،بکوانا، خریدنا ، خریدوانا ، مزدوری پر خریدار کے گھر
Flag Counter