دونوں لے آ، وہ لے آیا ۔حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) نے مجمع سے خطا ب کر کے فرمایا: اسے کون خرید تا ہے ، ایک نے عرض کیا کہ میں ایک درہم سے لیتا ہوں پھر دو تین بار فرمایا کہ درہم سے زیادہ کو ن دیتا ہے ؟ دو سرے نے عرض کیا میں دو درہم (نو آنے ) میں خرید تا ہوں ۔ حضور علیہ السلام نے وہ دو نوں انہیں کو عطا فرمادیں (نیلام کا ثبوت ہوا ) اور یہ دو درہم ان سائل صاحب کو دے کر فرمایا کہ ایک کا غلہ خرید کر گھرمیں ڈالو دوسرے درہم کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ پھر اس کلہاڑی میں اپنے دست مبارک سے دستہ ڈالااور فرمایا جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور پندر ہ رو ز تک میرے پاس نہ آنا ۔ وہ انصاری پندرہ رو ز تک لکڑیاں کاٹتے اور بیچتے رہے پندرہ رو ز کے بعد جب بارگاہ نبوی میں حاضر ہو ئے تو ان کے پاس کھانے پینے کے بعد دس درہم یعنی پونے تین روپے بچے تھے ۔ اس میں سے کچھ کا کپڑا خریدا کچھ کا غلہ ۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا یہ محنت تمہارے لئے مانگنے سے بہتر ہے ۔