Brailvi Books

اسلامی زندگی
141 - 158
(۱۱) فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)جو کو ئی اپنا فا قہ مخلوق پر پیش کر ے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی فقیری بڑھائے گا۔
( سنن ابی داؤد ،کتاب الزکاۃ ، باب فی الاستعفا ف ، الحدیث ۱۶۴۵ ، ج ۲ ،ص ۱۷۰)
طبع فقیر ی ہے اور یاس غنا۔
( مشکوۃ المصابیح ،کتاب الزکاۃ ،باب من لا تحل ۔۔۔۔۔۔ الخ ، الفصل الثالث ، الحدیث ، ۱۸۵۶)
کمائی کے عقلی فوائد:
 (۱) حلال کمائی پیغمبروں کی سنت ہے (۲) کمائی سے مال بڑھتا ہے اورمال سے صدقہ ، خیرات ، حج ، زکوۃ ، مسجدو ں کی تعمیر ، خانقاہوں کی عمارت ہوسکتی ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مال کے ذریعہ جنت خریدلی کہ ان کے لئے فرمایا گیا۔
اِفْعَلُوْا مَا شِئْتُمْ
 (یعنی تم جوچاہے کرو)۔
 (۳)کمائی کھیل کو د او ر صد ہا جر موں سے رو ک دیتی ہے چوری ، ڈکیتی ، بد معا شی چغلی غیبت لڑائی جھگڑے سے بیکاری کے نتیجے ہیں۔

(۴) کسب سے انسان کو محنت کی عا دت پڑتی ہے اور دل سے غرو ر نکل جاتا ہے۔

(۵) کسب میں غربت وفقیر ی سے امن ہے او رغریبی دنیا بر باد کر کے دونوں میں منہ کالا کرتی ہے ۔
اِلَّا مَا شَاءَ اللہُ
(۶)جو کوئی کمائی کے لئے نکلتا ہے تو اعمال لکھنے والے فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تیری اس حرکت میں بر کت دے اور تیری کمائی کو جنت کاذخیرہ بنائے اس دعا پر زمین وآسمان کے فر شتے آمین کہتے ہیں۔
 (تفسیرنعیمی پارہ دو م،روح البیان)

(تفسیر نعیمی ، ج ۲ ،ص۱۳۷ ، رو ح البیان ، پ ۲ ، البقرۃ ، تحت ۱۶۹،ج۱ ،ص ۱۷۳)
Flag Counter