Brailvi Books

اسلامی زندگی
139 - 158
یعنی نما ز رو زہ کے بعد کسب حلال فر ض ہے ۔

(۵)فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کہ رب تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کا پیغمبر وں کو دیا تھا کہ انبیاء کرام سے فرمایا:
یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوۡا صَالِحًا ؕ
اے پیغمبرو! حلال رزق کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ (پ18، المومنون:51)

اورمسلمانوں سے فرمایا:
کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ؕ
ہماری دی ہوئی حلال چیزیں کھاؤ۔(پ1،البقرہ57)
( صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ، باب قبول الصدقۃ ۔۔۔۔۔۔ الخ ، الحدیث ۱۰۱۵ ، ص۵۰۷)
(۶) بعض لوگ ہاتھ پھیلا پھیلا کر گڑ گڑ ا کر دعائیں مانگتے ہیں حا لانکہ ان کی غذا،ان کا لباس حرام کمائی کا ہوتاہے۔پھر ان کی دعا کیو نکر قبول ہو ۔
( صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ، باب قبول الصدقۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۱۰۵۱ ، ص ۵۰۷)
(۷)فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کہ تین شخصوں کے سوا کسی کو مانگنا جائز نہیں ایک وہ جو کسی مقروض کا ضامن بن گیا اور قرض اسے دینا پڑگیا۔دو سرا وہ جس کا مال آفت ناگہانی سے بر باد ہوگیا ۔ تیسرا وہ جو فا قہ میں مبتلا ہوگیا ان کے سوا کسی اور کو سوال حلال نہیں ۔
( صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ، باب من نحل لہ المسئلۃ ، الحدیث ۱۰۴۴ ، ص ۵۱۹)
(۸)ایک بار حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں کسی انصاری نے سوال کیا فرمایا: ''کیاتیرے گھر میں کچھ عرض(یعنی سامان) ہے؟'' عرض کیا: صرف ایک کمبل ہے جس کا آدھا بچھاتا ہوں ، آدھا اوڑھتا ہوں او ر ایک پیالہ جس سے پانی پیتا ہوں ۔ فرمایا: وہ
Flag Counter