| اسلامی زندگی |
بلکہ ان سے بڑھ کر کرتے ہیں ۔ شعیب علیہ السلام کی قوم کم تو لنے کی مجرم تھی ۔لوط علیہ السلام کی قوم نے حرام کا ری کی،لیکن دودھ میں سے مکھن نکال لینا ، ولا یتی گھی دیسی بنا کر بیچ دینا و غیرہ وغیرہ ۔ان کے با پ دادوں کو بھی نہ آتا تھا لہٰذا مسلمانو ! ہوش میں آؤ جلد کو ئی حلال کا رو با ر شرو ع کر و۔ اب ہم بیکاری کی برائیاں اور حلال کمائی کے نقلی وعقلی فضائل بیان کرتے ہیں ۔
کسب کے نقلی فضائل:
حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے بہتر غذا وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے کھائے ۔ داؤدعلیٰ بنیناوعلیہ الصلاۃوالسلام بھی اپنی کمائی سے کھاتے تھے۔
( صحیح البخاری ،کتاب البیوع ، باب کسب الرجل ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث ۲۰۷۲، ج ۲ ،ص۱۱ ) (ومشکوۃ المصابیح ، کتاب البیوع ، باب الکسب ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۲۷۵۹ ، ج۲ ، ص ۵۱۳)
(۲) فر ماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کہ طیب چیز وہ ہے جو تم نے اپنی کمائی سے کھائی او رتمہاری اولاد تمہاری کمائی ہے۔
یعنی ماں با پ اولاد کی کمائی کھاسکتے ہیں۔
(سنن التر مذی ،کتاب الاحکام ،باب ماجاء ان الوالد یا خذ من مال و لدہ، الحدیث ۱۳۶۳ ، ج۳ ،ص۷۶)
(۳) فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں رو پیہ پیسہ کے سوا کوئی چیز کام نہ دے گی ۔ (۴) فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)حلال کمائی فر ض کے بعد فرض ہے۔
( شعب الایمان ، باب فی حقوق الا ولاد و الاھلین ، الحدیث ، ۸۷۴۱ ، ج ۶ ،ص ۴۲۰ )