| اسلامی زندگی |
اس ليے مسلمانوں کو چاہيے کہ بیکاری سے بچیں ، اپنے بچو ں کو آوارہ نہ ہونے دیں اور جو انوں کو کام پر لگائیں دو سری قوموں سے سبق لیں دیکھو ہندوؤں کے چھوٹے بچے یا سکول وکالج میں نظر آئیں گے یا خوانچہ بیچتے ۔ مسلمانوں کے بچے یا پتنگ اڑاتے دکھائی دیں گے یا گیند بَلّا کھیلتے دیگر قوموں کے جوان کچہریوں،دفتروں اورعمدہ عمدہ عہدوں کی کر سیوں پر دکھائی دیں گے یا تجارت میں مشغول نظر آئیں گے مگر مسلمانوں کے جوان یا فیشن ایبل اور عیش پر ست ملیں گے یا بھیک مانگتے دکھائی دیں گے یا بدمعاشی کرتے نظر آئیں گے ۔
سینما مسلمانوں سے آبا د،کھیل تماشوں میں مسلمان آگے آگے،تیتربازی، بٹیر بازی اور پتنگ بازی، مرغ بازی غرض ساری بازیاں اور ہلاکت کے سارے اسباب مسلم قوم میں جمع ہیں۔میں تو یہ دیکھ کرخو ن کے آنسو رو تا ہوں کہ ذلیل پیشہ ور مسلمان ہی ملتے ہیں میراثی مسلمان ، رنڈیاں اکثر مسلمان زنانے (ہیجڑے)مسلمان یکہ و تانگا والے اکثرمسلمان جواری وشرابی اکثرمسلمان،افسوس جو دین بد معا شیوں کو دنیا سے مٹا نے آیا اس دین کے ماننے والے آج بد معا شیوں میں اول نمبر۔
یقین کر و کہ ہمارا زندہ رہنا اور ہم پر عذاب الٰہی نہ آنا صر ف اس لئے ہے کہ ہم حضورصلی اللہ تعالیٰ وآلہ وسلم کی امت میں ہیں ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ ؕ
ترجمہ کنزالایمان :اوراللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرماہو۔(پ9،الا نفال 33) ورنہ پچھلی ہلاک شدہ قوموں نے جو کام ایک ایک کر کے کئے تھے ہم ان سب کے برابر