لیتی ہیں ؟ جب تم مرہی گئے تو اب تمہارا مال کوئی بھی لے تم کو کیا ؟تم بیٹے کی محبت میں اپنی آخرت کیوں تباہ کرتے ہو؟تمہارا یہ خیال بھی غلط ہے کہ لڑکی تمہارا مال برباد کردے گی ۔ ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ اپنے باپ کی چیز کا درد جتنا لڑکی کوہو تا ہے اتنا لڑکے کو نہیں ہوتا۔ ایک جگہ لڑکو ں نے اپنے باپ کا مکان فروخت کیا لڑکے تو خوشی سے فروخت کر رہے تھے مگر لڑکی بہت روتی چلاتی تھی کہ یہ میرے مَرے باپ کی نشانی ہے ۔ اس کو دیکھ کر اپنے باپ کو یاد کرلیتی ہوں میں اپنا حصہ فروخت نہ کروں گی ۔ اس کے رونے سے دیکھنے والے بھی رونے لگے اوربڑھاپے میں جتنی ماں باپ کی خدمت لڑکی کرتی ہے اتنی خدمت لڑکا نہیں کرتا۔ پھراس غریب کو کیوں محروم کرتے ہو؟ لڑکے تو مرنے کے بعد قبر پر فاتحہ کو بھی نہیں آتے لہٰذاضروری ہے کہ لڑکی اور لڑکے کو پوراحصہ دو ۔ کاٹھیاواڑمیں ایک قوم ہے جو آغاخوانی خوجہ ۔اگر ان کے دو بیٹے ہوں تو ایک کا نام قاسم بھائی اوردوسرے کا نام رام لعل یا مول جی اورکہتے ہیں کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں کی بخشش ہوئی تو قاسم بھائی بخشوالے گا اور اگر ہندوؤں کی نجات ہوئی تو رام لعل ہاتھ پکڑے گا۔ کیا یہ ہی ہم نے بھی سمجھ رکھا ہے کہ زندگی میں اسلامی کام کریں اورمیراث میں ہندوؤں کے قانون اختیار کریں تاکہ دونوں قومیں خوش رہیں؟