Brailvi Books

اسلامی زندگی
125 - 158
رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جب کسی کے یہاں پر سادینے جاتے تو اس کے گھر حقہ ، پانی بھی استعمال نہ کرتے تھے ۔ کسی نے عرض کیا کہ حضرت یہ تو دعوت نہیں فقط ایک تواضع ہے یہ کیوں نہیں استعمال فرماتے ؟ تو فرمایا کہ زکام کو روکو تاکہ بخار سے امن رہے ۔ 

    ہماری اس گزارش کا مقصد یہ نہیں کہ تیجہ ، دسواں ، چالیسواں وغیرہ نہ کرو ۔ یہ تو دیو بندی یا وہابی کہے گا ۔ مقصد یہ ہے کہ اس کو اولیاء کے نام ونمودکے لئے نہ کرو بلکہ ناجائز اورفضول رسموں کو اس سے نکال دو ۔ حق تعالیٰ توفیق عطافرما دے ۔ آمین
میراث:
    اسلامی قانون میں مسلمانوں کی ساری اولا دیعنی لڑکے لڑکیاں اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے مال سے میراث لیتے ہیں ۔ لڑکے کو لڑکی سے دوگنا حصہ ملتاہے مگر ہندوؤں آریوں کے دھرم میں لڑکی باپ کے مال سے محروم ہوتی ہے ۔ اورسب مال لڑکا ہی لیتاہے یہ صاف ظلم ہے ۔ جب دونوں ایک ہی باپ کی اولاد ہیں تو ایک کو میراث دینا اورایک کونہ دینا اس کے کیا معنی ؟ لیکن کاٹھیاواڑاورپنجاب کے مسلمانوں نے اپنے لیے یہ ہندوانی قانون قبول کیا ہے ۔ اورحکومت کو لکھ کر دے دیاہے کہ ہم کو ہندوانی قانون منظورہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم زندگی میں تو مسلمان ہیں اورمرنے کے بعد نعوذباللہ ہندو۔ یادرکھو قیامت میں اس کا جواب دینا پڑے گا ۔ 

    اگر اسلام کے اس قانون سے ناراضی ہے تو کفر ہے اوراگر اس کو حق جان کر اس پر عمل نہ کیا تو حق تلفی اور ظلم ہے ۔ لڑکے تم کو کیا بخش دیتے ہیں اورلڑکیا ں کیا چھین
Flag Counter