Brailvi Books

اسلامی زندگی
119 - 158
پاؤں اورمیت کو سیدھی کروٹ پر لٹا دیا جائے مگر اس سے جان نکلنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ بہتر ہے کہ میت کے پاؤں قبلہ کی طرف کرد یے جائیں اوراس کو چت لٹا دیا جائے تا کہ کعبہ کو منہ ہوجائے کروٹ کی ضرورت نہ رہے ۔چند جگہ کعبہ کی طرف پاؤں کرنا جائز ہیں۔ (۱)لیٹ کر نماز پڑھتے وقت(۲)جان نکلنے کے وقت (۳)میت کو غسل دیتے وقت(۴)اورقبرستان لے جاتے وقت جبکہ قبرستان مشرق کی طرف ہو، اس کے پاس بیٹھنے والے کوئی دنیاوی بات نہ کریں اوراس وقت خود بھی نہ روئیں بلکہ سب لوگ اس قدرآوازسے کلمہ طیبہ پڑھیں کہ میت کے کان میں وہ آواز پہنچتی رہے اورکوئی شخص اس وقت منہ میں پانی ڈالتا رہے کیونکہ اس وقت پیاس کی شدت ہوتی ہے اگر گرمی زیادہ پڑ رہی ہو تو کوئی پنکھے سے ہوا بھی کرتا رہے ۔ سورہ یٰٓسن شریف پڑھیں تاکہ اس کی مشکل آسان ہو اوررب تعالیٰ سے دعاکریں کہ یااللہ عزوجل! اس کا اورہم سب کا بیڑا پارلگا ئیو۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَاارْزُقْنَاحُسْنَ الْخَاتِمَۃِؕ
    جب جان نکل جائے تو کسی کو رونے سے نہ روکیں کیونکہ زیادہ غم پر نہ رونا سخت بیماری پیدا کرتا ہے ۔ ہاں یہ حکم دیں کہ نوحہ نہ کریں یعنی منہ پر تھپڑنہ لگائیں اوربے صبری کی باتیں نہ بکیں ۔ غسل اورکفن سے فارغ ہوکر نعت خوانی کرتے ہوئے یا بلند آواز سے درود شریف اورکلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے میت کو لے چلیں کیونکہ آج کل اگر ذکر الہٰی آواز سے نہ ہوتو لوگ دنیا کی باتیں کرتے ہوئے جاتے ہیں اوریہ منع ہے نیز اس نعت خوانی اوردرود شریف کی آواز سے گھروں میں لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی میت جارہی ہے تو آکر نماز اوردفن میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ نماز جناز ہ پڑھ کر کم از کم تین بارقُلْ ھُوَاللہُ اورسورہ فلق،سورہ ناس اورسورۂ فاتحہ پڑھ کر میت کو ثواب بخشیں کہ
Flag Counter