پاؤں اورمیت کو سیدھی کروٹ پر لٹا دیا جائے مگر اس سے جان نکلنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ بہتر ہے کہ میت کے پاؤں قبلہ کی طرف کرد یے جائیں اوراس کو چت لٹا دیا جائے تا کہ کعبہ کو منہ ہوجائے کروٹ کی ضرورت نہ رہے ۔چند جگہ کعبہ کی طرف پاؤں کرنا جائز ہیں۔ (۱)لیٹ کر نماز پڑھتے وقت(۲)جان نکلنے کے وقت (۳)میت کو غسل دیتے وقت(۴)اورقبرستان لے جاتے وقت جبکہ قبرستان مشرق کی طرف ہو، اس کے پاس بیٹھنے والے کوئی دنیاوی بات نہ کریں اوراس وقت خود بھی نہ روئیں بلکہ سب لوگ اس قدرآوازسے کلمہ طیبہ پڑھیں کہ میت کے کان میں وہ آواز پہنچتی رہے اورکوئی شخص اس وقت منہ میں پانی ڈالتا رہے کیونکہ اس وقت پیاس کی شدت ہوتی ہے اگر گرمی زیادہ پڑ رہی ہو تو کوئی پنکھے سے ہوا بھی کرتا رہے ۔ سورہ یٰٓسن شریف پڑھیں تاکہ اس کی مشکل آسان ہو اوررب تعالیٰ سے دعاکریں کہ یااللہ عزوجل! اس کا اورہم سب کا بیڑا پارلگا ئیو۔