نماز کا پڑھنا ، توبہ کرنا ، میت کو دفن کرنا، نیک کام کرنا ، کسی کے مرنے سے محلہ میں روٹی پکانا یا کھانا منع نہیں ہوجاتا۔ہاں چونکہ میت کے خاص رشتہ دار دفن میں مشغول ہونے اور زیادہ رنج وغم کی وجہ سے کھانا نہیں پکاتے ان کے لئے کھانا تیار کرنا بلکہ انہیں اپنے ساتھ کھلانا سُنت ہے ۔ مگر خیال رہے کہ کھانا صرف ان لوگوں کے لئے پکایا جائے اوروہی لوگ کھائیں جو رنج وغم کی وجہ سے گھر نہ پکا سکیں محلہ والوں اوربرادری کو رسمی طریقہ پر کھلانا بھی ناجائز ہے اورکھانا بھی ۔ غم اور رنج دعوتوں کا وقت نہیں،میت کے ساتھ دیگ یا کچھ غلہ لے جانے میں حرج نہیں مگر دو باتوں کا ضرور خیال رہے۔اول یہ کہ لوگ اس خیرات کو اتنا ضروری نہ سمجھ لیں کہ نہ ہو تو قرض لے کرکر یں ۔اگر میت کے وارثوں میں سے کوئی وارث بچہ ہو یا کوئی سفر میں ہوتو میت کے مال سے خیرات نہ کریں بلکہ کوئی شخص اپنی طرف سے کردے ۔ دوسرے یہ کہ قبرستان میں تقسیم کرتے وقت یہ خیال رکھا جائے کہ فقراء وغرباقبروں کو پاؤں سے نہ روندیں اوریہ کھانا یا غلہ نیچے نہ گرے ۔ بہتر تو یہی ہے کہ گھر پر ہی خیرات کردی جائے کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ خیرات لینے والے فقراء غلہ لینے کے لیے قبروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اورچاول وغیرہ بہت خراب کرتے ہیں ۔