Brailvi Books

اسلامی زندگی
117 - 158
قبرستان جاتی ہے جو کہ دفن کے بعد وہاں فقراء کو تقسیم کردی جاتی ہے اوریوپی میں کچا غلہ اورپیسے لے جاتے ہیں جو قبرستان میں تقسیم ہوتے ہیں ۔
ان رسموں کی خرابیاں:
    انسان کے لئے نزع کا وقت بہت سخت وقت ہے کہ عمر بھر کی کمائی کا نچوڑ اس وقت ہورہا ہے ۔اس وقت قرابت داروں کا وہاں دنیاوی باتیں کرنا سخت غلطی ہے کیونکہ اس سے میت کا دھیان ہٹنے کا اندیشہ ہے فقط آنکھوں سے آنسو بہیں یا معمولی آواز منہ سے نکلے اورکچھ صبر وغیرہ کے لفظ بھی منہ سے نکل جائیں تو کوئی حرج نہیں مگر پیٹنا،منہ پر طمانچہ مارنا ، بال نوچنا ، کپڑے پھاڑنا،بے صبری کی باتیں منہ سے نکالنا نوحہ ہے اورنوحہ حرام ، نوحہ کرنے والے سخت گنہگار ہیں ۔ یہ سمجھ لو کہ نوحہ کرنے اورنوچنے،پیٹنے سے مردہ واپس نہیں آجاتابلکہ صبرکاجوثواب ملتاہے وہ بھی جاتارہتا ہے۔ دوہی وقت امتحان کے ہوتے ہیں ۔ ایک خوشی کا دوسرا غم کا ۔ جوان دو وقتوں میں قائم رہا وہ واقعی مرد ہے ۔ مصیبت کے وقت یہ خیال رکھو کہ جس رب نے عمر بھر آرام دیا اگر وہ کسی وقت کوئی رنج یا غم بھیج دے تو صبر چاہے ۔ کسی قرابت دار کے آنے کے انتظار میں میت کے دفن میں دیر لگانا سخت منع ہے اوراس میں ہر طرح کا خطرہ ہی ہے اگر زیادہ رکھنے سے میت کا جسم بگڑ جائے یا کسی قسم کی بو وغیرہ پیدا ہوجائے یا کسی قسم کی خرابی وغیرہ پیدا ہوجائے تو اس میں مسلمان میت کی توہین ہے ۔ قرابت دار آکر میت کو زندہ نہیں کرلیں گے اورمنہ دیکھ کر بھی کیا کریں گے ۔ اس لیے دفن میں جلدی کرنا ضروری ہے ۔ چند چیزوں میں بلاوجہ دیر لگانا منع ہے لڑکی کی شادی ، قرض کا ادا کرنا،
Flag Counter