خیر کچھ عار اورشرم تھی ۔ پھر وہ گاڑیاں بند ہوئیں اورصرف ایک عورت جس کو ماماں کہتے تھے لانے اورپہنچانے کے لیے رہ گئی۔ پھر وہ بھی ختم۔ صرف یہ رہا کہ جوان لڑکیاں برقعہ پہن کر آتیں ۔ پھر یہ بھی ختم ہوا۔ آزادانہ طور سے آنے جانے لگیں ۔ پھر عقل کے اندھوں نے لڑکیوں اورلڑکوں کی ایک ہی جگہ تعلیم شروع کرادی اورشارد اایکٹ جاری کرایاجس کے معنی یہ تھے کہ اٹھارہ سال سے پہلے کوئی نکاح نہ کرسکے پھر لڑکیوں اورلڑکوں کو سینما کے عشقیہ ڈرامے دکھائے بیہودہ ناولوں کی روک تھام نہ کی جس کا مطلب صاف یہ ہوا کہ ان کے جذبات کو بھڑکایا گیااور نکاح روک کر بھڑکے ہوئے جذبات کو پورا ہونے سے روک دیا گیا جس کا منشا صرف یہ ہے کہ حرام کاری بڑھے ۔ کیونکہ بھڑکی ہوئی شہوت جب حلا ل راستہ نہ پائے گی تو حرام کی طرف خرچ ہوگی ۔ اورایسا ہورہا ہے ۔ اب اس وقت یہ حالت ہے کہ جب اسکولوں ، کالجوں کی لڑکیاں صبح شام زرق برق لباس میں راستوں سے آپس میں مذاق دل لگی کرتی ہوئی زور سے باتیں کرتی ہوئی عطر لگائے ، دوپٹہ سر سے اتارے ہوئے نکلتی ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ شاید ہندوستان میں پیرس آگیا۔اوردردمنددل رکھنے والے خون کے آنسوروتے ہیں۔ اکبرالہ آبادی نے خوب فرمایا ہے :